عراق میں اہل سنت کی چار مساجد پر حملے، 12 افراد جاں بحق

بغداد، کرکوک اور الکوت کی مساجد بموں سے نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے تین بڑے شہروں میں اہل سنت والجماعت مسلک کی چارجامع مساجد پرنامعلوم دشت گردوں کی جانب سے کیے گئے بم حملوں میں کم سے کم 12 افراد جاں بحق اور 50 کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکوں سے مساجد کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

عراق کے ایک سینیئر سیکیورٹی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ادارے " اے ایف پی" کو بتایا کہ منگل کی شب کرکوک شہرکے جنوب میں نامعلوم حملہ آوروں نے جامع مسجد عمربن عبدالعزیز اور مسجد الصالحین میں بم دھماکے کیے، جن کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ کرکوک کے ڈائریکٹر محکمہ صحت صباح امین نے بتایا کہ مساجد پرحملوں کےنتیجے میں اسپتالوں میں سات افراد کی میتیں لائی گئی ہیں جبکہ 31 زخمیوں کو بھی علاج کے لیے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مساجد میں ہوئے دھماکوں کے نتیجے میں دونوں مسجد ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔

ادھردارالحکومت بغداد سے 160 کلو میٹر جنوب میں واقع الکوت شہرمیں جامع مسجد امام علی کے قریب بارود سے بھری ایک کار کے ذریعے دھماکہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور نو زخمی ہوگئے۔ میڈیکل اور سیکیورٹی ذرائع نے الکوت کی جامع مسجد میں دھماکوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بغداد میں جامع مسجد احمد المختار میں دو بم دھماکے ہوئے، جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق اور کم سے کم نو زخمی بتائے جاتے ہیں۔

اہل سنت والجماعت کی مساجد پرحملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دو روز قبل ابو غریب اور التاجی جیلوں پرعسکریت پسندوں کے حملوں میں سیکڑوں قیدی فرار ہوگئے تھے۔ جیلوں سےفرار ہونےوالوں کی بڑی تعداد القاعدہ کے نہایت مطلوب جنگجوؤں پر مشتمل بتائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ عراق میں پرتشدد واقعات پچھلے کئی سال سے تواترکے ساتھ جاری ہیں۔ تاہم حالیہ تین مہینوں کے دوران خون ریز کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ تین ماہ میں کم سے کم 2500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں