شامی حزب اختلاف فرانس سے فوجی امداد اور سیاسی حمایت کی طلب گار

شامی قومی اتحاد کے سربراہ کا دورۂ فرانس، صدر فرانسواولاند سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی حزًب اختلاف کے لیڈر احمد جربہ فرانس کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ وہ آج بدھ کو پیرس میں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے ملاقات کرنے والے ہیں اور ان سے باغی جنگجوؤں کے لیے فوجی امداد مہیا کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

انھوں نے گذشتہ روز فرانسیسی پارلیمان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ باغی جنگجوؤں کے لیے فوجی امداد کا حصول ان کے دورے کا ایک بڑا مقصد ہے۔

احمد جربہ نے کہا کہ ''یقینی طور پر ہم فرانس سے مکمل سیاسی اور سفارتی حمایت، انسانی ہنگامی امداد اور فوجی و دیگر امداد مہیا کرنے کے لیے کہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ صدراولاند کی دعوت اس بات کا ثبوت ہے کہ فرانس کو شام میں دلچسپی ہے۔

6جولائی شامی قومی اتحاد (ایس این سی) کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد احمد جربہ کا فرانس کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس کے بعد وہ نیویارک جائیں گے جہاں وہ اقوام متحدہ کے عہدے داروں اور عالمی سفارت کاروں سے ملاقاتیں کریں گے۔ برطانیہ کے ایک بیان کے مطابق اقوام متحدہ کی پندرہ ارکان پر مشتمل سلامتی کونسل کا جمعہ کو ایس این سی کی قیادت کے ساتھ اجلاس ہوگا اور اس میں چین اور روس بھی شریک ہوں گے۔

درایں اثناء باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے سربراہ جنرل سلیم ادریس نے کہا ہے کہ حزب اختلاف یورپی اور امریکی دوستوں سے ٹیکنیکل، میڈیکل اور انسانی امداد کے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود کے حصول کے لیے کوشاں ہے کیونکہ باغیوں کے پاس کافی ہتھیار نہیں رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں