.

اخوان کے مرشد عام سمیت آٹھ سینئر عہدیداروں کے وارنٹ گرفتاری

وارنٹ گرفتاری آرمی چیف کی مظاہروں کی کال کے بعد جاری ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی "مینا' کے مطابق پبلک پراسیکیوٹر ہشام برکات ایڈووکیٹ نے بدھ کے روز اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع سمیت تحریک کے آٹھ سینئر عہدیداروں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

محمد بدیع سمیت اسلام پسند سینئر رہنماؤں کے گرفتاری وارنٹ کا مقصد ان سے عوام کو تشدد پر اکسانے کے الزامات کی تحقیقات کرنا ہے۔

اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت کی گرفتاری کا فیصلہ مصری مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کی جانب سے عوام کو جمعہ کے روز مظاہروں کی اپیل کے بعد کیا گیا۔ جنرل السیسی کے بہ قول 'دہشت گردی اور تشدد' کی بیخ کنی کی کوششوں کی حمایت عوام جمعہ کے روز سڑکوں پر مظاہرے اور ریلیاں نکال کر کریں۔

اخوان کے جن قائدین کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں ان میں: مرشد عام محمد بدیع، محمد عبدالمقصود، سابق رکن اسمبلی محمد البلتاجی، معروف عالم دین صفوت حجازی، مکتب الارشاد کے رکن عبدالرحمن البر، عالم دین اور اخوان کے سینئر رکن جمال عبد الھادی، عبداللہ برکات، سابق وزیر سپلائی باسم عودہ اور سابق وزیر نوجواناں اسامہ یاسین شامل ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے "رائیٹرز" کے مطابق اخوان المسلمون کے رہنما محمد بدیع کو انہی الزامات کے بارے میں تحقیقات کی غرض سے پہلے بھی حکومتی تحویل میں لیا گیا تھا، تاہم تین جولائی کو ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔