.

تیونس: حزب اختلاف کے رکن اسمبلی مسلح افراد کی فائرنگ سے قتل

حکومت کی جانب سے محمد البراہمی کے قتل پرجمعہ کو قومی سوگ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی حزب اختلاف کے رکن اسمبلی محمد البراہمی کو مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کردیا ہے۔

تیونس کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق پاپولر موومنٹ کے جنرل کوآرڈی نیٹر اور قومی دستورساز اسمبلی کے رکن محمد البراہمی کو جمعرات کو دارالحکومت تیونس کے علاقے غزالہ میں ان کے گھر کے باہر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔

اسمبلی کے ایک اور رکن محسن نبطی نے تیونسی ریڈیو کو بتایا کہ ''ابراہمی کو ان کی بیوی اور بچوں کے سامنے گولیاں ماری گئی ہیں''۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ان کے جسم میں گیارہ گولیاں پیوست تھیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق رکن اسمبلی کے قتل کے واقعہ کے خلاف احتجاج کے طور پر ہزاروں افراد نے وزارت داخلہ کے کی جانب مارچ کیا ہے۔ اس دوران سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ حزب اختلاف کے رکن اسمبلی کے قتل پر جمعہ کو قومی سوگ منایا جائے گا۔

یاد رہے کہ چھے ماہ قبل حزب اختلاف کے ایک اہم رہ نما اور اسلامی جماعت النہضہ کے ناقد شکری بلعید کو نامعلوم افراد نے قتل کردیا تھا۔ تیونسی حکومت کے ایک مشیر نے گذشتہ روز ہی کہا ہے کہ ان کے قتل کی سازش میں ملوث چھے مشتبہ ملزموں کی شناخت ہوگئی ہے۔

شکری بلعید کو بھی ان کے گھر کے باہر دن دہاڑے قتل کردیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے خلاف ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اورحزب اختلاف نے شدید احتجاج کیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سیاسی بحران کے نتیجے میں اسلامی جماعت النہضہ کے وزیراعظم حمادی جبالی کومستعفی ہونا پڑا تھا۔