.

خوش خوراک خلیجی عوام دنیا کے فربہ ترین شہری بن گئے

فارغ البالی کے باعث خواتین میں موٹاپا زیادہ، کویت موٹاپے میں نمبر ون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ممالک کے عوام کو ان کی خوش خوراکی اور فارغ البالی کے باعث اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں دنیا میں سب سے زیادہ موٹاپے کا شکار قرار دیا گیا ہے۔ کویت عرب دنیا اور خلیج میں بھی موٹاپے کے اعتبار سے سب سے آگے ہے، کویت کے بالغ شہریوں میں بیالیس فیصد سے زائد غیر معمولی موٹے ہیں ۔ پینتیس فیصد سے زائد شہریوں کے موٹا ہونے کے حوالے سے سعودی عرب دوسرے اور تینتیس فیصد سے زائد افراد کے موٹا ہونے کی وجہ سے قطر تیسرے نمبر پر ہے۔ ان ممالک میں خواتین کے موٹا ہونے کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

عام طور پر امریکی شہریوں میں موٹا پن زیادہ ہونے کی وجہ سے امریکہ کو نمایاں سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ سے یہ '' اعزاز'' خلیجی اور عرب ملکوں کو منتقل ہو گیا ہے، کیونکہ اس رپورٹ کے مطابق صرف اکتیس فی صد زائد امریکی موٹاپے کا شکار ہیں۔

دنیا بھر کے ڈاکٹر حضرات موٹاپے کو امراض قلب، جوڑوں کے درد اور ذیابیطس ایسی بیماریوں کا سبب قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے موٹے عوام کے حوالے سے ٹاپ ٹین میں شامل کویت، بحرین ، سعودی عرب، قطر، اور متحدہ عرب امارات ممالک کے شہریوں میں ذیابیطس کی بیماری دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ انٹر نیشنل ذیا بیطس فاونڈیشن کی طرف مرتب کردہ اعدادو شمار کے مطابق صرف کویت میں اکیس فیصد سے زائد شہری ذیابیطس کا شکار ہیں ، جبکہ قطر میں بھی موٹاپے کی وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قطر کی سپریم کونسل برائے صحت کے رکن ڈاکٹر فالح محم حسین علی کا کہنا ہے کہ موٹاپے کے خلاف جلد آگاہی مہم شروع کی جا رہی ہے۔

موٹاپے کا یہ عارضہ دنیا بھر کی طرح عرب دنیا میں بھِی عام ہے، کیوںکہ خواتین کا گھروں کی حد تک محدود رہنا اور ورزش سے دوررہنا ہے۔ ایک گیلپ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں صرف سولہ فیصد عورتیں ورزش کی طرف مائل ہیں تاہم یہ ورزش تیس منٹ تک ہے۔

عرب دنیا میں اس موٹاپے کی اہم وجوہات میں خوش خوراک ہونا،مصالحہ دار اور مرغن کھانوں کا شائق ہونا اہم ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ دولت میں تیزی سے اضافہ بھی خلیجی ممالک کے لائف سٹائل کو تبدیل کرنے کا ذریعہ بنا ہے۔ غیر ملکی مزیدار کھانوں کی ''عالمی زنجیریں '' اور گاڑیوں کی بہتات بھی عرب ممالک میں موٹاپا عام کر رہی ہیں۔