.

سعودی عرب: تارکین وطن کی حیثیت کی تصدیق کے لیے ای سروس کا اجراء

غیر ملکیوں کو پاسپورٹ بنوانے والوں کی لوٹ کھسوٹ سے بچنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکام نے مملکت میں مقیم غیرملکی تارکین وطن کو محکمہ پاسپورٹ کی متعارف کردہ ای سروس سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ پاسپورٹ بنوانے کا کاروبار کرنے والوں لوٹ کھسوٹ سے بچیں۔

اس ای سروس کا نام ''ابشر'' ہے اور اس کا مقصد غیرملکی تارکین وطن کو ''مڈل مین'' اور تیز رفتار کام کرانے والوں سے بچانا ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکی تارکین وطن کو اپنی حیثیت کو قانونی بنانے کے لیے تین جولائی تک مہلت دی گئی تھی لیکن بعد میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اس میں نومبر تک توسیع کردی ہے۔

نئی ای سروس کے ذریعے غیرملکی تارکین کو رہائشی اجازت نامے جاری کیے جارہے ہیں یاان کی تجدید کی جارہی ہے۔یہ سروس سعودی وزیرداخلہ شہزادہ محمد بن نایف آل سعود کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے اور اس کا بڑا مقصد لوگوں کو ان کے آن لائن مسائل حل کرنے کے لیے معاونت فراہم کرنا ہے تا کہ انھیں بہ ذات خود متعلقہ دفاتر کے چکر نہ لگانا پڑیں۔

محکمہ پاسپورٹ کے ترجمان احمد الحیدان نے بتایا کہ ای سروس کے ذریعے تارکین وطن کی حیثیت کی توثیق کے لیے صرف معمول کی سرکاری فیس وصول کی جاتی ہے۔ اگر کوئی مڈل مین اس کے علاوہ فیس وصول کرتا ہے تو ہم اس کے ذمے دار نہیں ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اب تک قریباً پانچ لاکھ افراد اس سہولت سے استفادہ کرچکے ہیں۔دوسری جانب ایک مڈل مین (وچولڑے) کا موقف تھا کہ وہ مشکل کام کی وجہ سے زیادہ فیس وصول کرتے ہیں۔اس کے بہ قول ہمیں پاسپورٹ اور لیبر دفاتر کے باہر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہونا پڑتا ہے۔

عبدالرحمان الجابری نامی اس مڈل مین نے بتایا کہ ہم ہر سروس کے لیے پندرہ سو سے دوہزار ریال تک وصول کرتے ہیں۔اگر کاغذات میں زیادہ تاخیر ہوتی ہے اور زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے تو پھر ہم صارفین بھی زیادہ رقوم وصول کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے مفتیٔ اعظم نے گذشتہ جمعہ کو اپنے خطبے میں کہا تھا کہ مڈل مینوں اور تارکین وطن نے کسی شناختی اور قانونی دستاویز کے بغیر کام کرنے والے ورکروں کی تصدیق کے عمل میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔انھوں نے خبردار کیا کہ اس طریقے سے حاصل کی جانے رقم حرام اور ممنوع ہے۔