.

شام میں رمضان کے آغاز کے بعد تشدد کے واقعات میں 2 ہزار ہلاکتیں

شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے 1323 افراد مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری خانہ جنگی میں رمضان المبارک کے آغاز کے بعد سے دوہزار چودہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ دس جولائی کو ماہ صیام کے آغاز کے بعد جھڑپوں اور تشدد کے دیگر واقعات میں شامی صدر بشارالاسد کی حامی ملیشیا اور ان کے مخالف باغی جنگجوؤں کے ایک ہزار تین سو تئیس افراد مارے گئے ہیں۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہناہے کہ گذشتہ چار روز کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں مگر ان کے بہ قول شامی تنازعے کے دونوں فریق ہی ہلاکتوں کے حقیقی اعدادوشمار کو چھپا رہے ہیں۔ اس لیے مرنے والوں کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

آبزرویٹری کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق رمضان کے دوران اب تک شامی آرمی کے چار سو اڑتیس فوجی اور سرکاری پیراملٹری نیشنل ڈیفنس فورس کے انہتر اہلکار لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب باغیوں کا ساتھ دینے والے پانچ سو پینتالیس شہری مارے گئے ہیں۔ ان میں شامی فوج سے منحرف ہونے والے تیس فوجی بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ دو سو اکتالیس غیرملکی اور غیر شناختہ جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

رمضان میں چھے سو انتالیس عام شہری مارے گئے ہیں۔ان میں ایک سو پانچ بچے اور ننانوے خواتین شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر سرکاری فوج کے فضائی حملوں یا توپ خانے سے گولہ باری میں مارے گَئے۔ گذشتہ دوہفتے کے دوران باون نامعلوم لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

آبزرویٹری کے مطابق شام میں مارچ 2011ء سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی چند روز قبل شام میں ہلاکتوں کی اتنی ہی تعداد بتائی تھی اور کہا تھا کہ اب ہر ماہ خانہ جنگی میں قریباً پانچ ہزار افراد مارے جارہے ہیں اور مہاجرین کا 1994ء میں افریقی ملک روانڈا میں نسل کشی کی طرح بدترین بحران پیدا ہوگیا ہے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے مطابق اب تک شام کے پڑوسی ممالک میں قریباً اٹھارہ لاکھ شامی مہاجرین کا اندراج کیا گیا ہے اور ہر ماہ اوسطاً چھے ہزار افراد خانہ جنگی میں جانیں بچا کر دربدر ہورہے ہیں۔ بیس سال قبل روانڈا میں نسل کشی کے نتیجے میں لوگوں کی اتنی بڑی تعداد نے اس طرح نقل مکانی کی تھی۔ اب اس کے بعد شامیوں کی بڑی تعداد اپنا گھربار چھوڑ کر مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔