لبنان پر اسرائیلی حملے میں یورپی یونین برابر کی شریک ہو گی: حسن نصر اللہ

ای یو نے امریکی اور اسرائیلی دباؤ میں آ کر ہمیں دہشت گرد قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے کہا ہے اسرائیل کے لبنان یا حزب اللہ پر حملے کی ذمہ داری یورپی یونین پر بھی عاید ہو گی۔ امریکا اور اسرائیل نے بہت زیادہ کوششوں کے بعد ہمیں دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرایا ہے۔ ہمیں اس فیصلے کی ایک عرصے سے امید تھی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یورپی یونین کی جانب سے حزب اللہ کے عسکری ونگ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر اپنا پہلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کیا۔ اپنے نشریاتی خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ "حزب اللہ کے عسکری ونگ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرانے کی منظوری دے کر یورپی یونین کے رکن ملکوں نے خود کو لبنان یا اس کی مزاحمتی تنظیم [حزب اللہ] کے خلاف کسی بھی حملے میں خود کو شریک کر لیا ہے۔"

"ان ملکوں کو سمجھنا چاہئے کہ وہ ایسے اقدامات کے ذریعے اسرائیل کو لبنان پر حملے کا قانونی جواز فراہم کر رہے ہیں۔ اسرائیل دعوی کر سکتا ہے کہ وہ لبنان میں دہشت گردی کے ٹھکانے تباہ کرنے کی غرض سے وہاں بمباری کرنا چاہتا ہے۔ "حسن نصر اللہ کے بہ قول یورپی یونین کا فیصلہ یہودی ریاست کی 'مفت خدمت' ہے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ فیصلہ ہمارے ارادوں کو کمزور نہیں کر سکتا۔ اس کے ذریعے ہمیں جھکنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم ڈر کر پیچھے ہٹ جائیں"، لیکن "میں یورپیںز کو بتانا چاہتا ہوں کہ تمھیں ناکامی اور مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

اٹھائیس رکنی یورپی یونین نے گذشتہ سوموار کو حزب اللہ کے عسکری ونگ کا نام دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکا اور مشرق وسطی میں اس کا مضبوط اتحادی اسرائیل، ایران نواز حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں