.

مصری فوج کی اخوان کو مصالحتی عمل میں شرکت کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت

فوج کی تشدد اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی مسلح افواج نے اخوان المسلمون کو سیاسی مصالحت کے لیے اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی ہے اور مستور دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ہفتے کی دوپہر تک نقشہ راہ کو تسلیم نہیں کیا تو اس کے خلاف سخت حربے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

مصری فوج کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ ''ہم کوئی اقدام نہیں کریں گے لیکن یقینی طور پر اخوان المسلمون کے لیڈروں اور ان کے حامیوں کی جانب سے تشدد یا کسی سیاہ دہشت گردی کی کال پر سخت اقدام کریں گے،ہم پرامن مظاہرین کو ان کی سیاسی وابستگی سے قطع نظر تحفظ مہیا کرنے کا عزم کرتے ہیں''۔

قبل ازیں فوج نے اپنے فیس بُک صفحے پر جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ وہ تشدد اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کرے گی۔

امریکا کا ضبط وتحمل پر زور

درایں اثناء امریکا نے مصری فوج پر زوردیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرے اور متحارب مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے کہا کہ واشنگٹن کو کشیدگی کو مہمیز دینے والے بلند آہنگ بیانات پر تشویش ہے۔ایرنسٹ صدر براک اوباما کے ساتھ ان کے طیارے ائیرفورس ون پر فلوریڈا کے لیے سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ''اوباما انتظامیہ نے سکیورٹی فورسز پر زور دیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ضبط اور انتباہ سے کام لے''۔

واضح رہے کہ مصر کی سب سے منظم سیاسی قوت اخوان المسلمون کے مرشدعام محمد بدیع نے جمعہ کو برطرف صدر محمد مرسی کے حق میں پرامن ریلیاں نکالنے کی اپیل کی ہے۔

اس سے ایک روز قبل مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے بھی جمعہ کو ملک گیر ریلیوں کی اپیل کی ہے جس سے ان کے بہ قول انھیں تشدد اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مینڈیٹ ملے گا۔

انھوں نے ایک تقریر میں تمام دیانت دار اور قابل اعتماد مصریوں سے کہا کہ وہ آیندہ جمعہ کو اپنے گھروں سے نکلیں۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ مجھے اس بات کا مینڈیٹ دینے کے لیے نکلیں کہ میں ممکنہ تشدد اور دہشت گردی سے نمٹ سکوں''۔

مسلح افواج کے سربراہ اور اخوان کے مرشد عام کی الگ الگ اپیل پر مظاہرے ہونے کی صورت میں اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ فریقین کے درمیان ایک مرتبہ پھر تشدد آمیز واقعات پیش آسکتے ہیں۔ رواں ہفتے کے دوران متحارب مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔