.

اخوان کے مرشد عام کی مرسی کے حق میں ریلیوں کی اپیل

مصری جمعہ کو آزادی اور قانون کی حکمرانی کے لیے گھروں سے نکلیں: بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی سب سے منظم سیاسی قوت اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع نے جمعہ کو برطرف صدر محمد مرسی کے حق میں پرامن ریلیاں نکالنے کی اپیل کی ہے۔

محمد بدیع نے جمعرات کو ایک بیان میں ''باوقار مصری عوام سے کہا ہے کہ وہ آزادی اور قانونی حاکمیت کے حق میں اور خونیں انقلاب کے خلاف گھروں سے نکلیں''۔

اخوان کے مرشد عام اس وقت مصری حکام کی نظر میں مفرور ہیں کیونکہ انھوں نے ان کے اور جماعت کے بعض دوسرے لیڈروں کے خلاف لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

محمد بدیع کی برطرف صدر کے حق میں ریلیوں کی اپیل سے ایک روز قبل مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے بھی جمعہ کو ملک گیر ریلیوں کی اپیل کی تھی جس سے ان کے بہ قول انھیں تشدد اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مینڈیٹ ملے گا۔
انھوں نے بدھ کو اسکندریہ میں فوجی کیڈٹس کی گریجوایشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''میں تمام دیانت دار اور قابل اعتماد مصریوں سے کہتا ہوں کہ وہ آیندہ جمعہ کو اپنے گھروں سے نکلیں۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ مجھے اس بات کا مینڈیٹ دینے کے لیے نکلیں کہ میں ممکنہ تشدد اور دہشت گردی سے نمٹ سکوں''۔

ان کا واضح اشارہ جزیرہ نما سینا میں حالیہ ہفتوں کے دوران اسلامی جنگجوؤں کے سکیورٹی فورسز پر حملوں اور ملک بھر میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان خونریز جھڑپوں کی جانب تھا۔

انھوں نے کہا کہ ''میری مظاہروں کی اپیل تشدد کی کال نہیں ہے اور اس کا مقصد قومی مصالحت کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ضمن میں حمایت کا حصول ہے''۔

اخوان المسلمون کے سینیر رہ نما اعصام العریان نے فوجی سربراہ کی تقریر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ان کی ریلیوں کی اپیل ایک دھمکی ہے اور اس سے مرسی کے حامی مظاہرین رکیں گے نہیں۔

انھوں نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا کہ ''آپ کی دھمکی لاکھوں افراد کو جمع ہونے سے نہیں روکے گی''۔ انھوں نے جنرل السیسی کو فوجی باغی لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے خواتین، بچوں اور نمازیوں کو قتل کیا ہے۔

ڈاکٹر محمد مرسی کی فوجی انقلاب کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں اور اس سے پہلے ان کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران کم سے کم دو سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسرائیل اور غزہ کی پٹی ساتھ واقع جزیرہ نما سینا میں مسلح جنگجو قریباً روزانہ ہی سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔

برطرف صدر کی حامی اسلامی جماعتوں کے لیڈروں نے سکیورٹی فورسز پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ انھیں حملوں میں ملوث قرار دینے کے لیے ایک گہری سازش پرعمل پیرا ہیں۔ انھوں نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں شہریوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ان پر پُرتشدد حملوں کی سازش کر رہی ہیں اور پھر وہ ان واقعات کا تعلق پرامن مظاہرین کے ساتھ جوڑ دیں گی۔

منتخب جمہوری صدر کو چلتا کرنے کے لیے مظاہروں اور ریلیوں کو منظم کرنے والے گروپ تمرد نے فوجی سربراہ کی اپیل پر مظاہروں میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلح افواج کی حمایت کے لیے سڑکوں پر آئیں۔