.

"سفینہ غزہ" اسرائیلی محاصرہ توڑنے کی ایک اور کاوش

منصوبے پر ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر لاگت آئے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مزدوروں اور غزہ میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت دن رات محنت کرکے مچھلیوں کے شکار میں استعمال ہونے والی ایک کشتی کو "سفینہ غزہ" میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ اقدام غزہ پر مسلط اسرائیلی محاصرہ کے منفی اثرات ختم کرنے کی کوشش ہے۔ "سفینہ غزہ" کے ذریعے میں غزہ میں تیارکردہ مصنوعات اور 100 سے زائد افراد کو جولائی کے آخر تک یورپ کے لئے روانہ کرنا ہے۔

اس منصوبے پر کام کرنے والے افراد بہت اچھی امیدوں کے ساتھ اپنا دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ "سفیہ غزہ" پر کام کرنے والے ایک فلسطینی مزدور کا کہنا تھا کہ "اس منصوبے سے کسانوں، مچھیروں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے فلسطینیوں کو اپنی مصنوعات کے لئے صارفین تلاش کرنے کا موقع ملے گا۔" منصوبے کے مینیجر نے بتایا کہ "اس منصوبے کا مقصد فلسطینی مصنوعات کو برآمد کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے تاکہ محاصرہ زدہ فلسطینی شہر کی مشکلات کم ہو سکیں۔"

اس منصوبے کی مکمل لاگت کا تخمینہ 150٫000 ڈالر لگایا گیا ہے اور منصوبے کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے لئے اب تک 110٫000 ڈالر جمع کئے جا چکے ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد "غیر قانونی اور غیر انسانی اسرائیلی محاصرے کو چیلنج کرنا ہے۔"

ایک فلسطینی مچھیرے کے مطابق یہ امر انتہائی افسوسناک ہوگا اگر یہ کشتی غزہ کی بندرگاہ سے باہر نہ جا سکی۔ اگر ایسا ہوا تو فلسطینیوں کی تیارکردہ مصنوعات ان کے گوداموں میں گلتی سڑتی رہیں گی کیوںکہ وہ انہیں درآمد نہیں کرسکیں گے۔