.

مرسی پر حماس کے تعاون سے جیل توڑنے کا الزام

معزول صدر پر قیدیوں، پولیس افسروں اور فوجیوں کے اغوا کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا پندرہ روزہ ریمانڈ پر ہیں۔ حکام ان سے ملک دشمن فلسطینی تنظیم حماس سے تعاون کے الزامات سے متعلق تفتیش کر رہے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' کے مطابق دوران تفتیش ان سے استفسار کیا جائے گا کہ آیا انہوں نے حماس کے ساتھ ملکر پولیس تھانوں پر حملے کیے۔ ان کا سنہ دو ہزار گیارہ میں متعدد جیلوں پر حملوں کیا کردار تھا، ان حملوں کا فائدہ اٹھا کر وہاں قید دسیوں سیاسی اسیر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ 'مینا' کے مطابق استغاثہ صدر مرسی سے پہلے سوال جواب کر چکی ہے جس میں انہیں 'الزامات سے متعلق ثبوت پیش کئے گئے۔"

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ صدر مرسی پر قیدیوں اور پولیس افسروں کے قتل اور اغوا کا الزام ہے۔ جیل حملوں کے بارے میں مقدمہ معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی انتفاضہ کے دنوں کا ہے کہ جب مبینہ طور پر اخوان المسلمون نے حماس کے کارکنوں کی مدد سے جیل کے پھاٹک توڑے جہاں سے اہم سیاسی قیدی اور خطرناک مجرم فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اخوان المسلمون کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جیل توڑنے کی کارروائی میں مقامی افراد نے ان مدد کی اس میں غیر ملکی شریک نہیں تھا۔ یہ خبر صدر مرسی کے حق اور خلاف ریلیوں کے آغاز سے کچھ دیر پہلے نشر کی گئی ہے۔ تین جولائی کو صدر مرسی کی برطرفی کے بعد سے مصری فوج نے انہیں کسی نامعلوم مقام پر رکھا ہوا ہے۔

درایں اثنا اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کی حراست دیکھ کر لگتا ہے کہ حسنی مبارک کا دور واپس لوٹ آیا ہے۔
اخوان المسلمون کے ترجمان جہاد الحداد کا کہنا ہے کہ صدر مرسی کے خلاف عاید الزامات سے صدر مبارک کے انتقام کی بو آتی ہے۔