.

فوج نے اخوان کا مصر پر قبضے کا خواب چکنا چور کر دیا: سلفی رہ نما

اداروں کے تحفظ کے لیے فوج نے قوم کی آواز پر لبیک کہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف جنرل عبدالفتاح السیسی کی کال پر جمعہ کے روز کیے گئے عوامی مظاہروں کے بعد ملک کی سلفی مسلک کی نمائندہ جماعتوں نے فوج کی حمایت کی ہے۔

سخت گیر سلفی مسلک کی جماعت "الدعوۃ السلفیہ" نے ملک میں اخوان المسلمون کی منتخب حکومت کا تختہ الٹے جانے کی ایک مرتبہ پھر حمایت کی ہے۔ جماعت کے ایک مرکزی رہنما ناجح ابراہیم کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون ریاستی اداروں پر قبضے کا خواب دیکھ رہی تھی لیکن مصری فوج نے اخوان کا یہ خواب چکنا چور کردیا۔

نائب چیئرمین "الدعوۃ السلفیہ" ناجح ابراہیم نے ان خیالات کا اظہار "العربیہ" ٹی وی خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایک سوال کے جواب میں سلفی رہ نما نے کہا کہ سابق حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کے بعد جب حالات بے قابو ہونے لگے اور ریاستی ادارے تباہی کے دھانے پرپہنچ گئے تو فوج کو انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے ملک کے دفاع اور تحفظ کے لیے میدان میں نکلنا پڑا ہے۔ سلفی رہ نما نے جمعہ کے روز مسلح افواج کی کال پر ہونے والے مظاہروں کی بھی حمایت کی اور کہا کہ فوج کی کال کا مقصد ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے عوام کی حمایت کا حصول تھا۔ لاکھوں مصری عوام نے سڑکوں پر نکل کر فوج کی حمایت کی ہے۔

برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی معزولی سے متعلق اپنا موقف بیان کرتے ہوئے ناجح ابراہیم کا کہنا تھا کہ میری خواہش تھی کہ مرسی عوامی احتجاج کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے عہدہ چھوڑ دیتے اور ملک میں فوجی مداخلت کی راہ ہموار نہ ہوتی، لیکن وہ اقتدار سے چمٹے رہے اور فوج کو ملک بچانے کے لیے اپنا 'کردار' ادا کرنا پڑا۔ قبل ازیں ایک اور سلفی رہ نما یاسر برھامی نے اخوان المسلمون کی پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ جماعت کے شعبہ دعوت وارشاد کی ذمہ داریوں سے استعفیٰ دیں۔