.

مصری فوجی انٹلیجنس کی برطرف صدر محمد مرسی سے تفتیش

خفیہ تفتیش کے نتائج کو اخوان پر پابندی لگانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے برطرف صدر کے خلاف گزشتہ روز شروع ہونے والا فوجداری تحقیقات کا سلسلہ محمد مرسی اور اخوان المسلمون کے خلاف وسیع البنیاد قانونی اقدامات کا نقطہ آغاز ہے۔

ایک فوجی افسر نے امریکی خبر رساں ادارے 'اے پی' کو بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں سے معزول صدر مرسی کی خفیہ حراست کے دوران فوجی انٹلیجنس نے ان سے ایوان صدر اور اخوان المسلمون کے طریقہ کار کے بارے میں متعدد سوالات کئے ہیں۔ ان سوالات کے نتیجے میں حاصل ہونے والے جوابات سے حکام یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے ریاستی راز ایک ہمسایہ ملک کی مزاحمتی تنظیم کے حوالے کر کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ برطرفی کے بعد سے مصر کی فوجی انٹلیجنس کے سوا کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں۔ حکام کے مطابق ان سے روزانہ کی بنیاد پر تفتیش کی جاتی ہے، جو بسا اوقات پانچ پانچ گھنٹے جاری رہتی ہے۔ تفتیش کے دوران صدر مرسی کو ان کی برطرفی سے پہلے کی ریکارڈ شدہ گفتگو سے اقتباس سنائے جاتے ہیں، جس کے بعد انٹلیجنس ایجنٹ انہیں سنائے گئے بیانات کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔

"صدر مرسی کو برطرفی کے بعد سے خفیہ حراست کے دوران ٹی وی اور اخبارات تک رسائی نہیں ہے۔ انہیں سخت سیکیورٹی میں وزارت دفاع کی ایک سے دوسری تنصیب پر تین مرتبہ منتقل کیا جا چکا ہے۔ اس وقت وہ قاہرہ سے باہر وزارت دفاع ہی کسی نامعلوم تنصیب پر ہیں، جس کے بارے میں حکام مزید کوئی وضاحت کرنے سے گریزاں ہیں۔

مصری فوج نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ وہ خفیہ تفتیش کے دوران محمد مرسی سے ملنے والی معلومات کو کب، کہاں اور کیسے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ تاہم بعض حکام کا کہنا ہے کہ اسے ان کے خلاف پہلے سے جاری سول پراسیکیوشن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے اخوان المسلمون کے دیگر قائدین پر فرد جرم عاید کرنے کے لئے بطور جواز استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نیز خفیہ تفتیش کے نتائج کو اخوان المسلمون پر پابندی لگانے جیسے انتہائی ڈرامائی اقدام کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اخوان المسلمون کئی دہائیوں تک کالعدم تنظیم کے طور پر کام کرتے ہیں، تاہم عوامی احتجاج کے نتیجے میں حسنی مبارک کی معزولی کے بعد تنظیم نے اپنی علانیہ سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

جمعہ کے روز دیوانی استغاثہ نے صدر مرسی کے خلاف قتل اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ساتھ سازباز کے الزامات سے متعلق تفتیش شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ان میں سب سے نمایاں الزام یہ تھا کہ محمد مرسی نے معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی جدوجہد میں حماس کے جنگجوؤں کی مدد سے جیل توڑی۔ اس کارروائی میں چودہ قیدی ہلاک ہوئے جبکہ وہاں قید تیس انتہائی مطلوب اسیر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

محمد مرسی سے جاری تفتیش فرد جرم سے پہلے کی کارروائی ہے، جس ان کے خلاف ممکنہ مقدمے میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا کوئی مقدمہ قائم ہوا تو اس میں موت تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اخوان المسلمون کا ردعمل

ادھر اخوان المسلمون نے معزول صدر پر لگائے جانے والے الزامات کی صحت سے انکار کرتے ہوئے انہیں سیاسی چشمک کا مظہر قرار دیا ہے۔ اخوان کے ترجمان احمد عارف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ محمد مرسی کے خلاف مقدمہ چلانے کا اعلان "خونی بغاوت کی راہ ہموار کرنے والی فوجی قیادت کے سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا مظہر ہے۔"

تاہم محمد مرسی سے کی جانے والی تفتیش کے قرائن بتاتے ہیں کہ مصری فوج 85 سالہ قدیم دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔ اخوان پر پابندی کے صورت میں اسلام پسند عوام شدید ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں۔ حماس کے رہنما محمد البلتاجی نے اخوان پر پابندی جیسے اقدام کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ [فوج] تنظیم کی تحلیل کر سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس وقت پورے ملک کو ایسے ہی انجام دے دوچار کر رکھا ہے

اخوان المسلمون کے ایک اور رہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کا مکمل علم ہے کہ تنظیم پر پابندی خارج از امکان نہیں، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اس افسوسناک مرحلے کا حتمی نتیجہ جنرل السیسی کے زوال کی صورت نکلے گا۔