.

کویت مِں نئے ووٹنگ نظام کے تحت پارلیمانی انتخابات

حزب اختلاف کے بڑے گروپوں کا انتخابات کا بائیکاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں پارلیمانی انتخابات کے لیے آج ہفتے کے روز ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ گذشتہ آٹھ ماہ مِیں اس خلیجی ریاست میں یہ دوسرے پارلیمانی انتخابات ہیں۔

پارلیمان کی پچاس نشستوں کے لیے تین سو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ان میں حزب اختلاف کے امیدواروں کی بہت تھوڑی تعداد شریک ہے۔آٹھ خواتین بھی میدان ہیں۔تاہم ۲۰۰۵ء کے بعد خواتین امیدواروں کی یہ سب سے کم تعداد ہے۔واضح رہے کہ اسی سال کویت میں خواتین کو سیاسی حقوق دیے گئے تھے۔

حزب اختلاف کے گروپوں نے انتخابی قانون میں ترمیم کے خلاف احتجاج کے طور پر ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے اور انتخابی مہم کے دوران بھی ان کی عوامی سطح پر کوئی زیادہ سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

کویت میں ماضی میں ہونے والے انتخابات میں ایک ووٹر زیادہ سے زیادہ چار امیدواروں کو ووٹ کاسٹ کرسکتا تھا لیکن نئے قانون کے تحت وہ صرف ایک ہی امیدوار کا چناو کرسکتا ہے۔

کویتی حزب اختلاف نے گذشتہ سال دسمبر میں منعقدہ پارلیمانی انتخاب کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن حزب اختلاف حکومت کے خلاف بڑی ریلیاں منظم کرنے میں ناکام رہی تھی۔

کویتی حکومت کا کہنا ہے کہ ان انتخابات سے ریاست میں استحکام آئے گا اور اس نے چارووٹ کے نظام کو ریاست کو دوسرے جمہوری مالک کے ہم پلہ لانے کے لیے تبدیل کیا ہے۔تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان انتخابات کے باوجود کویت میں سیاسی استحکام کا امکان نہیں ہے کیونکہ اختیارات کا منبع کویتی امیر شیخ صباح الاحمد الصباح ہی ہیں اور پارلیمان کو برائے نام قانون سازی اور حکومت کے مواخذے کا اختیارحاصل ہے جبکہ شہری ہر سال چھے ماہ کے بعد انتخابی عمل سے اکتا چکے ہیں۔