.

"مرسی کے حق میں مظاہرے قانون کے مطابق روکیں گے"

عوام مظاہرین کے خلاف شکایت کر رہے ہیں: مصری وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے وزیر داخلہ محمد ابراہیم نے معزول صدر مرسی کے حامیوں کے مظاہروں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جلد ختم کرنے میں کامیابی کا عندیہ دیا ہے۔

ایک سرکاری ویب سائٹ کے مطابق وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ''مرسی کے حامی مظاہرین کے خلاف مظاہروں سے متاثرہ علاقوں کے رہائشی لوگوں کی شکایات آ رہی ہیں کہ مظاہروں نے ان کے معمولات میں خلل ڈال رکھا ہے، اس لیے ان مظاہرین کو سڑکوں سے اٹھانے کے لیے انہی شکایات کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی''

خبر رساں اداروں کے مطابق فوج کے ہاتھوں معزول ہونے والے صدر کے ہزاروں حامی قاہرہ کی دو اہم شاہراہوں پر مرسی کی بحالی کے لیے مسلسل تین ہفتوں سے دھرنے دیے بیٹھے ہیں۔ جبکہ مصری فوج کے سربراہ اور عبوری حکومت میں اول نائب وزیر اعظم جنرل عبدالفتاح السیسی کی اپیل پر بھی ہزاروں لوگ جمعہ کے روز ملک کے گلی کوچوں میں نکل آئے تاکہ فوج کو دہشت گردی اور تشدد کے خاتمے کے لیے'' مینڈیٹ'' دے سکیں۔ ان میں تحریر چوک اور صدارتی محل کے باہر بھی ہزاروں لوگ فوج کے حق میں جمع ہیں۔ درایں اثنا دارالحکومت کے گنجان آباد علاقوں میں بھی ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے خلاف اور بحالی کے حق میں بھی ہزاروں مظاہرین جمع ہیں۔ ان مظاہرین کا موقف ہے کہ ''مرسی کی برطرفی فوجی بغاوت کا نتیجہ ہے''۔

جنرل عبدالفتاح کی طرف سے بدھ کے روز عوام کے جمعہ کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کو معزول صدر کے اسلام پسند حامی اپنے مظاہروں کے خلاف فوج کے کریک ڈاون کا اشارہ قرار دے رہے ہیں تاہم ان کا دعوی ہے کہ وہ ہر صورت سڑکوں پر موجود رہیں گے۔ دوسری طرف فوج کا کہنا ہے کہ ''فوج مطاہرین میں سے کسی خاص گروپ کی جانبداری نہیں کرے گی اور مرسی کے حامیوں اور مخالف مظاہرین کو اس وقت تک کچھ نہیں کہے گی جب تک وہ پر امن رہیں گے'' واضح رہے اس دوران مختلف جگہوں پر تصادم کے واقعات ہو چکے ہیں۔ صرف اسکندریہ میں پیش آنے والے واقعے میں چار افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان شروع ہونے والے مبینہ تصادم کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔ اس دوران 86 افراد زخمی ہو گئے۔ اکثر افراد گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں ۔ مصر کی وزارت صحت کے مطابق ملک کے دیگر حصوں میں بھی کم از کم 54 مظاہرین زخمی ہوئے ہیں ۔ سات مظاہرین دامیتا کے شہرمیں زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران فوج کے ہیلی کاپٹر مرسی کے حق میں مظاہروں اور تحریر چوک کے مظاہرے پر پرواز کرتے رہے۔ اس صورت حال میں وزیر داخلہ نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مرسی کے حامی مظا ہرین کو منتشر کرنے کا کہا ہے۔