.

امن مذاکرات بحالی کے لئے اسرائیل کا 100 فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور

رہائی منصوبے کی منظور اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی کابینہ اتوار کے روز ہونے والے اجلاس میں تقریبا ایک سو فلسطینی اسیران کی رہائی کی منظوری دینے جا رہی ہے تاکہ فلسطینی انتظامیہ کے ساتھ معطل امن مذکرات کا سلسلہ بحال ہو سکے۔ یاد رہے منگل کے روز فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے نمائندے واشنگٹن میں ایک ملاقات میں امن مذاکرات بحالی کے مراحل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں امن منصوبے کے مراحل پر ووٹنگ کے علاوہ اس مسودہ قانون پر بھی غور کریں گے جس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ کسی بھی امن معاہدے، جس میں 1967ء کو اسرائیلی تسلط میں جانے والے علاقوں سے انخلاء کا فیصلہ بھی شامل ہے، کی منظوری سے پہلے اس پر ریفرینڈم کے ذریعے عوامی رائے جانی جائے گی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کابینہ میں شامل یہودی آبادکاری کے سخت حامیوں سے بھی قیدیوں کی رہائی کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ سن 2010ء سے تعطل کے شکار امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے ان قیدیوں کی رہائی فیصلہ کن اقدام ہے۔

عوامی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے گذشتہ شب ایک ڈرامائی پیش رفت میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پیغام دیا ہے کہ اسرائیلی عوام ان کے اس 'تکلیف دہ فیصلے' کی تائید کریں کہ جس کے تحت سے وہ گزشتہ بیس برسوں اسے صہیونی جیلوں میں قید ان فلسطینیوں کو رہا کرنے جا رہے ہیں کہ جن کے ہاتھ اسرائیلی شہریوں کے خون سے رنگے ہیں۔