شام کو حزب اللہ اور ایران کی منظم بیرونی یلغارکا سامنا ہے: جربا

اگلے ماہ جنگ کا پانسہ پلٹ دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام میں باغیوں کی نمائندہ سیاسی تنظیم نیشنل الائنس کے چیئرمین احمد عاصی الجربا نے کہا ہے کہ ان کے ملک کوایرانی پاسداران انقلاب اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی منظم یلغارکا سامنا ہے، جس کے باعث باغیوں کوا ٓزاد کرائے گئے بعض علاقوں سے پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔

انہوں نے جنگ میں پسپائی کےاعتراف کے ساتھ دعویٰ کیا کہ ایک ماہ میں محاذ جنگ میں غیرمعمولی تبدیلی رونما ہوں گی اور وہ جنگ کا پانسہ پلٹ دیں گے۔

احمد الجربا نے ان خیالات کا اظہار "العربیہ الحدث" کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شام کی صورت حال بارے جنیوا کنونشن کے بعد اب تک سرکارء فوج کے ہاتھوں پچانوے ہزار شہری مارے جا چکے ہیں۔

مسٹرالجربا کا کہنا تھا کہ جنیوا کنونشن میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ شام میں مسئلے کا حل بشارالاسد اور ان کے حامیوں کی اقتدار سے علاحدگی میں مضمر ہے۔ وہ جنیوا کنونشن کی سفارشات پرعمل درآمد کے لیے سیاسی مساعی کے ساتھ مسلح مزاحمت بھی جاری رکھیں گے۔

باغیوں کے مسلح گروپوں کو درپیش اسلحے کی قلت اور محاذ جنگ کی صورت حال بارے ایک سوال کے جواب میں احمد الجربا نے کہا کہ "محاذ جنگ کی صورت حال اتنی بھی خراب نہیں جتنی کہ بتائی جا رہی ہے، تاہم حزب اللہ، عراقی جنگجوؤں اور ایران کی مداخلت کے باعث بعض علاقوں سے باغی فوج کو پسپائی اختیار کرنا پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس اور برطانیہ نے جیش الحرکواسلحہ فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے اور یہ دونوں یورپی ملک باغیوں کی ہرسطح پرمدد کے لیے تیار ہیں۔

بھاری ہتھیارشدت پسند گروپوں کے ہاتھ لگنے کے مغربی خدشات سے متعلق سوال کے جواب میں الجربا کا کہنا تھا کہ "جیش الحرکی کمان میں کوئی بھی انتہا پسند تنظیم جنگ میں شامل نہیں ہے۔ دوست ممالک کی جانب سے جواسلحہ مل رہا ہے اسے صرف باغی فوجیوں اورانقلابی کارکنوں پرمشتمل باضابطہ فوج ہی استعمال کرتی ہے۔ ان ہتھیاروں کے انتہا پسند گروپوں کے ہاتھ لگنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے"۔

شامی انقلابی کونسل کے سربراہ نے گذشتہ ہفتے عراق میں دو جیلوں سے سیکڑوں قیدیوں کے فرارکو ایک سازش قرار دیا اور کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ انتہا پسند گروپوں سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کے فرار میں خود عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت ملوث ہوسکتی ہے تاکہ انتہا پسند عناصر کوشام میں داخل کرکے باغیوں کی صفوں میں انتشار پھیلایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ المالکی حکومت کا شامی تحریک انقلاب سے متعلق موقف شرمناک رہا ہے۔

الجربا نے اپنی گفتگو کے اختتام پرکہا کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حامی فوج اور ملیشیا کے ہاتھوں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھایا جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ شام کی قومی کونسل کے سربراہ کا یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں منظرعام پرآیا ہے جب شام میں محاذ جنگ میں ڈرامائی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ اسد نواز فوجیں طویل پسپائی کے بعد ایک مرتبہ پھر پیش قدمی کر رہی ہیں۔ تازہ پیش رفت باغیوں کے بیس کیمپ حمص میں الخالدیہ کالونی پرسرکاری فوج کا دوبارہ قبضہ ہے۔ الخالیہ کالونی پر قبضے کے بعد حمص پرقبضے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں