فلسطین کے ساتھ امن معاہدہ عوامی ریفرینڈم کی منظوری سے مشروط

اسرائیلی کابینہ نے اس سلسلے میں قانون سازی کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ 2010 سے معطل امن مذاکرات از سر نوشروع کرنے کی خاطر اسرائیلی کابینہ نے اتوار کے روز سو سے زائد فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور 1967 سے پہلے کی اسرائیلی سرحدوں پر واپسی کے لیے ایک امن معاہدہ بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہونے والے کسی بھی معاہدے کی حتمی منظوری عوامی ریفرنڈم کے ذریعے دی جائے گی تاکہ ملک کے مستقبل سے متعلق امور کے تاریخی اہمیت کے فیصلوں میں ہر شہری شریک ہو سکے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک روز قبل ان معاملات کو ایک ''پر درد فیصلے'' سے تعبیر کیا تھا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں ان امور پر مثبت فیصلے کی صورت میں ہی رواں ہفتے کے دوران واشنگٹن میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے ذرائع نے تا حال اسے کنفرم نہیں کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ جان کیری اسرائیل اور فلسطین مذاکرات بحالی کے اپنے منصوبے کے بارے میں بہت پر امید تھے تو اچانک پی ایل او کی جانب سے امن مذاکرات کی بحالی کو اس وقت تک بے معنی قرار دے دیا گیا جب تک فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے ساتھ اسرائیل 1967 کی جنگ سے پہلی حدود والے فلسطین کو تسلیم نہیں کرتا اور یہودی آبادیوں کے حوالے سے فلسطینیوں کے اصولی اور جائز موقف کے مطابق بستیوں کی تعمیر سے دستبردار نہیں ہوتا۔ بلاشبہ جان کیری کے لیے یہ ایک غیرمعمولی دھچکہ تھا۔

اس سلسلے میں اسرائیل نے شروع میں ہی فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا عندیہ دے دیا تھا، تاہم یہودی بستیوں کے قیام اور 1967 کی سرحدوں کے بارے میں فیصلہ کرنا آسا ن نہ تھا۔ لہذا اسرائیلی حکومت نے اس معاملے کو اتوار کے روز ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث لانے اور کابینہ سے منظوری لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اگرچہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اس اہم اجلاس سے محض ایک روز قبل اپنے فیس بک پر ان معاملات کو "پر درد" فیصلوں سے تعبیر گیا تھا، تاہم بنجمن نیتن یاہو نے اس چیزسے مکمل مایوسسی ظاہر نہیں کی تھی کہ یہودی بستیوں کے انتہا پسند حامی یہودیوں کی حمائت بھی حاصل کر لیں گے۔ کابینہ میں منظوری پانے والے بل کے حوالے اسرائیلی ذرائع کا کہنا کہ یہ بل پہلی ''ریڈنگ '' کے لیے اسی ہفتے پارلیمنٹ میں پیش ہو سکتا ہے۔

اس لیے اسرئیلی حکومت میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ فلسطینیوں کی رہائی اور 1967 میں قبضہ میں لیے گئے عرب علاقوں کو واپس کرنے کے لیے ریفرنڈم کرانے کی خاطر بل کی منظوری بھی ہو جائے گی۔ اس لیے بنجمن نیتن یاہو نے فیس بک پر ایک ڈرامائی اپیل لگائی تھی تاکہ عوامی تائید حاصل کر سکیں۔ بنجمن یاہو کے مطابق'' عرب دنیا کے حالات کے باعث اسرائیل کے لیے پچیدہ عالمی حالات میں پیدا ہونے والے مواقع بڑے اہم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں