لیبیا: جیل پر حملے کے بعد 1000 قیدی فرار

اکثر قیدی قذافی دور سے مقدمات کا سامنا کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا کے شہربن غازی کی الکوفیا جیل سے ایک ہزار سے زائد قیدی جیل پر حملے اور فسادات کی آڑ میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں ۔

لیبیا کے سرکاری ذرائع نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط بتایا کہ الکوفیا جیل پر باہر سے حملہ کیا گیا، جس کی وجہ سے قیدیوں کو فرار ہونے میں مدد ملی۔ جیل پر حملے کے دوران اعلی حکام نے قیدیوں پر فائر کھولنے سے منع کر دیا تھا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ اکثر فرار ہونے والے قیدی دوبارہ گرفتار کر لیے گئے ہیں ، تاہم سارے مفرور قیدیوں کو گرفتار کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ جو قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں ان میں افریقی ریاستوں کے معمولی جرائم پیشہ قیدیوں کے علاوہ اکثر قیدی سابق لبیبائی صدر معمر قذافی کے دور اقتدار میں قائم کیے گئے مقدمات میں ماخوذ تھے۔

لیبیا کے وزیراعظم علی زیدین نے قیدیوں کے فرار کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فرار ہونے والے قیدیوں کی تعداد کے بارے میں ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ جیل پر حملہ علاقے کے رہائشیوں کی طرف سے کیا گیا ہے کیونکہ رہائشی اپنے علاقے میں اس جیل کے حق میں نہیں ہیں ۔

علی زیدین نے مزید کہا کہ مشرقی لیبیا میں ایک ممتاز پارلیمانی کارکن کے قاتل کے فرار کے خدشے کے باعث مصر کے ساتھ ملحقہ سرحدی راستوں کو پہلے ہی بند کر دیا گیا تھا، جبکہ بعد ازاں سرحدوں پر قائم چوکیوں کوبھی فرار ہونے والے قیدیوں کے بارے میں آگاہ کر کے چوکس کر دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں