ہیومن رائٹس واچ نے مصر میں مظاہرین کی ہلاکتوں کی مذمت کردی

حکام کا مظاہرین پر گولیاں چلانے اور شہریوں کی جانوں سے بے پروائی برتنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے مصر میں ستر سے زیادہ مظاہرین کی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے اور حکام پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے عوام کی جانوں کے حوالے سے مجرم ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ دارالحکومت قاہرہ میں ہفتے کے روز ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کو سر میں یا سینے میں گولیاں ماری گئی تھیں اور ان مِیں سے بعض کو تو باقاعدہ ہدف بنا کر قتل کیا گیا تھا۔

ایچ آر ڈبلیو کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر ندیم حورے نے کہا کہ ''ان ہلاکتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اور بعض سیاست دانوں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں پر تشدد پر آمادہ نظر آئے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ اتنی زیادہ ہلاکتیں کسی ارادے کے بغیر ہوجائیں یا کم سے کم عوام کی زندگیوں کے بارے میں مجرمانہ کوتاہی برتے بغیر اس طرح ہلاکتیں ہوسکتی ہیں''۔

تنظیم نے مصر کی عبوری حکومت اور فوجی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر براہ راست فائرنگ کو روکنے کا حکم دیں اور جہاں انسانی زندگیوں کا تحفظ ناگزیر ہو، صرف وہیں پولیس طاقت استعمال کی جائے۔

پولیس نے قاہرہ میں ہفتے کے روز برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں پر براہ راست فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں بہتر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔مصر کی وزارت داخلہ نے اخوان المسلمون پر خونریز جھڑپوں کا الزام عاید کیا تھا اور پولیس کی جانب سے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی تردید کی اور کہا کہ اس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے صرف اشک آور گیس استعمال کی ہے۔

صدر مرسی کے حامیوں نے وزارت داخلہ کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے اور انھوں نے پولیس پر براہ راست فائرنگ کا الزام عاید کیا ہے۔ اس سے ایک روز قبل جمعہ کو مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں نو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں