.

حمص کی اہم کالونی اور خالد بن ولید مسجد پر اسدی فوج کا قبضہ

حزب اللہ جنگجوؤں کی شام میں مداخلت جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق سرکاری فوج نے باغیوں کے بیس کیمپ حمص میں اہم مقام الخالدیہ کالونی میں صحابی رسول حضرت خالد بن ولید رضٰ اللہ تعالی عنہ کے شہید مزار اور جامع مسجد پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سرکاری فوج نے حمص کی مرکزی الخالدیہ کالونی کے بیشترحصوں کا کنٹرول بھی سنھبال لیا ہے، جس کے بعد شہرکے دیگرعلاقوں کی جانب پیش قدمی شروع کردی گئی ہے۔

لندن میں قائم انسانی حقوق کی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سرکاری فوج نے شام کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی معاونت سے حمص میں ایک بڑی پیش قدمی کرتے ہوئے الخالدیہ کالونی کے ساٹھ فی صد حصے پراپنا کنٹرول مضبوط کرلیا ہے جبکہ باغی وہاں سے پسپا ہوگئے ہیں۔

عبدالرحمان نے بتایا کہ الخالدیہ کالونی میں جن اہم ترین مقامات پر قبضہ کیا گیا ان میں صحابی رسول حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا مزار اور اس سے ملحقہ جامع مسجد بھی شامل ہے۔ یاد رہے کہ حضرت خالد بن ولید کے مزار اور اس سے متصل جامع مسجد پر گذشتہ ہفتے سرکاری فوج نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں مزارمکمل طور پر تباہ اور مسجد کو بری طرح نقصان پہنچا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکن کا کہنا تھا کہ خالدیہ کالونی کے درو دیوار زور دار دھماکوں سے مسلسل گونج رہے ہیں۔ سرکاری فوج حزب اللہ ملیشیا کے جنگجوؤں کی مدد سے شہر پر چڑھائی کیے ہوئے ہے جبکہ باغی بھی پوری قوت سے مزاحمت کر رہے ہیں۔

ادھرشام کے سرکاری ٹی وی پرنشر ایک رپورٹ میں عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ "بہادر مسلح افواج نے حمص میں جامع مسجد خالد بن ولید کا مکمل کنٹرول سنھبال لیا ہے"۔ ہفتے کے روز شام کے سرکاری اخبار "الثورہ" نے بھی اپنی رپورٹ میں اطلاع دی تھی کہ سرکاری فوج نے حمص میں الخالدیہ اور جورہ الشیاح کالونیوں کی جانب پیش قدمی کی ہے اور دونوں کالونیوں کے ایک بڑے حصے کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ حمص کے شمال میں واقع الخالدیہ کالونی پر جمعہ کے روز سے بھاری توپخانے اور ہاون راکٹوں سے حملے جاری تھے۔ شہر پر قبضے کے لیے پچھلے ایک ماہ کے دوران جاری لڑائی میں یہ تباہ کن حملے تصور کیے جا رہے ہیں۔ حمص سے انسانی حقوق کے ایک دوسرے کارکن نے ای میل کے ذریعے اے ایف پی کو بتایا کہ گذشتہ تین دن کے دوران سرکاری فوج نے شہرپر قبضے کے لیے بھاری ہتھیاروں اور تباہ کن اسلحے کا بے دریغ استعمال شروع کیا ہے۔ سرکاری فوج کی جانب سے دن رات چوبیس گھنٹے کی بنیاد پر بلا تعطل گولہ باری جاری ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج جس عمارت میں داخل ہو رہی ہے اسے دھماکے سے اڑا دیا جاتا ہے۔

درایں اثناء باغیوں کے زیراثر شہرحلب سے اطلاعات ملی ہیں کہ سرکاری فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں چھ بچوں سمیت بارہ افراد مارے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق سرکاری فوج نے حلب میں المعادی اور بستان القصر کالونیوں پر جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں ایک درجن افراد مارے گئے۔ قبل ازیں جمعہ کی شام حلب کے جنوب میں باب النیرب کالونی میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل حملے میں 29 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں 19 کم سن بچے بتائے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کی آبزور ویٹری کے مطابق حلب میں شامی فوج کا اہم نقطہ شدت پسند تنظیموں کے مراکز بالخصوص دولۃ اسلامیہ شام و عراق کے ہیڈ کواٹر کو نشانہ بنانا ہے۔ جمعہ کے روز میزائل حملہ اسی تنظیم کے مرکز پرکیا گیا تھا تاہم یہ میزائل ہدف سے چند سومیٹر دور شہری آبادی پر جا گرا جس کے نتیجے میں عام شہری مارے گئے۔