.

النہضہ کی قیادت میں تیونسی کابینہ مستعفی نہیں ہوگی: وزیراعظم

اسمبلی کی تحلیل کا مطالبہ مسترد،17 دسمبر کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے وزیراعظم علی العریض نے واضح کیا ہے کہ حزب اختلاف کے مطالبے کے باوجود ان کی قیادت میں کابینہ مستعفی نہیں ہوگی۔تیونسی حکومت سے گذشتہ ہفتے حزب اختلاف کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک لیڈر محمد براہیمی کے قتل کے بعد مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم علی العریض نے سوموار کو دارالحکومت تیونس میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ اکتوبر تک ملک کے نئے آئین کو مکمل کر لیں گے اور 17 دسمبر کو آیندہ علاوہ انتخابات کرائے جائیں گے۔

انھوں نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''حکومت اقتدار میں رہے گی لیکن ہم اقتدار سے چمٹے نہیں رہنا چاہتے ہیں بلکہ ہمارا ایک فرض اور ذمے داری ہے جس کو ہم اپنی مدت کے اختتام تک انجام دیتے رہیں گے۔ انھوں نے 17 دسمبر کو عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔

گذشتہ جمعرات کو حزب اختلاف کے رکن پارلیمان محمد براہیمی کے اندوہناک قتل کے بعد تیونس ایک مرتبہ سیاسی بحران کا شکار ہو گیا ہے اور حزب اختلاف نے حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ شہریوں کو تحفظ مہیا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

وزیراعظم علی العریض نے سکیورٹی فورسز کے کام کو سراہا اور کہا کہ وہ چوبیس گھنٹے میں قاتلوں کا سراغ لگانے اور ان کی شناخت میں کامیاب رہے ہیں۔ انھوں نے ملک مِیں افراتفری پھیلانے والی جماعتوں کی مذمت کی۔

واضح رہے کہ تیونس کی قومی اسمبلی کے پچاس سے زیادہ ارکان مستعفی ہوچکے ہیں اور وہ حکومت کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس مطالبے کے حق سوموار کو ہزاروں افراد نے دارالحکومت میں قومی اسمبلی کے باہر احتجاج کیا ہے۔

حکمراں جماعت کے سربراہ راشد الغنوشی نے کہا کہ ان کی جماعت حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کے ساتھ بات چیت کو تیار ہے۔ تاہم انھوں نے اسمبلی کو تحلیل کرنے کے مطالبے کو مسترد کردیا۔