.

تین سال کے تعطل کے بعد مشرقِ وسطیٰ امن مذاکرات کا از سر نو آغاز

اعلی اختیاراتی سفارتکاروں کا اجلاس واشنگٹن میں ہو رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی اور فلسطینی انتظامیہ کے درمیان براہ راست امن مذاکرات تین سال کے وقفے کے بعد بحال ہونے جا رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کی شب اس بات کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی وزیر انصاف اور اعلیٰ مذاکرات کار زیپی لیونی پیر کو پہلے جان کیری کی میزبانی میں ایک افطار ڈِنر کے موقع پر اعلیٰ فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات سے ملاقات کریں گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ دونوں جانب کے اعلیٰ مذاکرات کار بالمشافہ ملاقات کے دوران منصوبہ تشکیل دیں گے کہ بات چیت کس طرح آگے بڑھائی جائے۔

ساکی نے ایک بیان میں بتایا: ’’ابتدائی ملاقاتیں پیر 29 جولائی کی شام اور منگل 30 جولائی 2013ء کے لیے ہیں۔‘‘

انہوں نے وزیر خارجہ جان کیری کے رواں ماہ مشرقِ وسطیٰ کے دورے کا حوالہ بھی دیا تھا۔ اس دورے کے موقع پر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ دورہ عمان کے موقع پر جان کیری کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان حتمی مرحلے کے براہ راست مذاکرات کی بنیادی باتیں طے پائی ہیں۔

جین ساکی نے کہا: ’’واشنگٹن میں ہونے والی یہ ملاقات ان مذاکرات کا آغاز ہو گی۔ یہ ایک باضابطہ طریقہ کار طے کرنے کا موقع ہو گاکہ فریقین آئندہ مہینوں کے دوران کس طرح آگے بڑھیں۔‘‘

جان کیری کا کہنا ہے: ’’دونوں جانب کے رہنماؤں نے ایسے مشکل فیصلے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جو اس مقام تک پہنچنے میں اہم رہے ہیں۔ ہم ان کی قیادت کے لیے شکر گزار ہیں۔‘‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مذاکرات اس اُمید پر شروع ہوں گے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی سفارتی کوششیں اس مرتبہ کامیابی کا کوئی نہ کوئی امکان ضرور پیدا کریں گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ان مذاکرات کا اعلان اسرائیل کی جانب سے 104 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان میں سے بعض کو اسرائیل پر حملے کرنے پر سزائیں ہوئی تھیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی کابینہ نے اتوار کو ووٹنگ کے ذریعے قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی۔ اسرائیل کے سرکاری ریڈیو کے مطابق 22 رکنی کابینہ کے 13 ارکان نے اس فیصلے کے حق میں ووٹ ڈالا۔

صائب عریقات نے اسرائیل کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اہم قدم ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ کی کوششوں سے ملنے والے موقع کا فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔