مرسی کے حامیوں کا فوج کے انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر کی جانب مارچ

فوج نے مظاہرین کو فوجی مراکز سے دور رہنے کے لیے انتباہ جاری کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے فوجی سربراہ کے ہاتھوں برطرف کیے گئے منتخب صدر کے ہزاروں حامیوں نے پیر کی صبح فوجی خفیہ ادارے کے مرکز کی جانب مارچ کرنا شروع کر دیا ہے۔ مرسی کے حامیوں کا یہ مارچ قاہرہ کے شمال میں واقع مسجد رابعہ العدویہ سے شروع ہوا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق مظاہرین نے یہ مارچ اخوان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے بعد شروع کیا ہے جس میں مظاہرین کے اس مارچ کی منزل فوج کے حساس شعبے کا ہیڈ کوارٹر بتایا گیا ہے۔ یہ احتجاجی مارچ فوج کی طرف سے پیر کی صبح جاری کیے گئے ایک بیان کے باوجود کیا جا رہا ہے جس میں فوج نے مظاہرین کو احتجاجی مارچ کرنے سے باز رہنے کے لیے انتباہ کیا تھا۔ اس صورتحال میں ایک نئے تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

خبررساں اداروں کے مطابق احتجاجی مارچ کے شرکاء برطرف شدہ صدر کی تصاویر اٹھا کر ان کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کے نعرے ہیں ،''مرسی کے لیے ہمارا تن من قربان ''۔ فتح کا نشان بنائے ان مظاہرین کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

فوج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اس طے شدہ احتجاجی مارچ سے آگاہ تھی اسی لیے فوج نے مظاہرین کر فوجی مراکز سے بالعموم اور فوج کے خفیہ شعبے کے ہیڈکوارٹر سے بطور خاص دور رہنے کا انتباہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں