.

مرسی کے حامیوں کا فوج کے انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹر کی جانب مارچ

فوج نے مظاہرین کو فوجی مراکز سے دور رہنے کے لیے انتباہ جاری کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے فوجی سربراہ کے ہاتھوں برطرف کیے گئے منتخب صدر کے ہزاروں حامیوں نے پیر کی صبح فوجی خفیہ ادارے کے مرکز کی جانب مارچ کرنا شروع کر دیا ہے۔ مرسی کے حامیوں کا یہ مارچ قاہرہ کے شمال میں واقع مسجد رابعہ العدویہ سے شروع ہوا ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق مظاہرین نے یہ مارچ اخوان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے بعد شروع کیا ہے جس میں مظاہرین کے اس مارچ کی منزل فوج کے حساس شعبے کا ہیڈ کوارٹر بتایا گیا ہے۔ یہ احتجاجی مارچ فوج کی طرف سے پیر کی صبح جاری کیے گئے ایک بیان کے باوجود کیا جا رہا ہے جس میں فوج نے مظاہرین کو احتجاجی مارچ کرنے سے باز رہنے کے لیے انتباہ کیا تھا۔ اس صورتحال میں ایک نئے تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

خبررساں اداروں کے مطابق احتجاجی مارچ کے شرکاء برطرف شدہ صدر کی تصاویر اٹھا کر ان کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کے نعرے ہیں ،''مرسی کے لیے ہمارا تن من قربان ''۔ فتح کا نشان بنائے ان مظاہرین کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

فوج کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اس طے شدہ احتجاجی مارچ سے آگاہ تھی اسی لیے فوج نے مظاہرین کر فوجی مراکز سے بالعموم اور فوج کے خفیہ شعبے کے ہیڈکوارٹر سے بطور خاص دور رہنے کا انتباہ کیا ہے۔