.

مصر مِیں ہنگامی حالت کے نفاذ کا کوئی ارادہ نہیں: سرکاری عہدے دار

یورپی یونین کا اخوان المسلمون کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر کے میڈیا مشیر کا کہنا ہے کہ حکومت کا ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بیان پولیس کی فائرنگ سے برطرف منتخب صدر محمد مرسی کے 72 حامیوں کی ہلاکت کے دو روز بعد جاری کیا ہے۔

مصر کی فوجی قیادت اور اس کی کٹھ پتلی عبوری حکومت کو اس واقعہ پر ملکی اور عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ عبوری صدر کے میڈیا مشیر احمد مسلمانی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ ''عبوری صدر نے وزیر اعظم کو مزید اختیارات سونپنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ ایک سول ریاست معرض وجود میں آئے اور یہ امر ہنگامی حالت کے نفاذ کی نفی کرتا ہے''۔

درایں اثناء مصر کی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک گروپ نے سابق صدر کے حامیوں کی ہلاکتوں پر وزیر داخلہ کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے مصری حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کے خلاف معاندانہ انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں۔

وہ ہفتے کے روز قاہرہ میں پیش آئے تشدد کے بدترین واقعہ کے بعد مصر پہنچی ہیں۔ تین جولائی کو منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد ان کا مصر کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ انھوں نے مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی سے قاہرہ میں ملاقات کی ہے۔ انھوں نے نائب صدر محمد البرادعی اور عبوری وزیر خارجہ نبیل فہمی سے بھی بات چیت کی ہے۔تاہم دم تحریر ان ملاقاتوں کی تمام تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔