.

یمن: امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے تین مشتبہ جنگجوؤں کی ہلاکت

صوبہ شیبوۃ میں القاعدہ کے جنگجوؤں کی کار کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں منگل کو علی الصباح امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے کے میزائل حملے میں القاعدہ کے تین مشتبہ جنگجو مارے گئے ہیں۔

یمن کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنوبی صوبے شیبوۃ میں امریکی ڈرون نے ایک کار پر میزائل داغا ہے جس سے کار ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور اس میں سوار دو یمنی اور ایک سعودی موقع پر ہی مارا گیا۔

امریکی ڈرون نے الآرم اور السعید کے درمیان واقع شاہراہ پر دوگاڑیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن ان میں سے ایک گاڑی کو میزائل لگا اور دوسری بچ جانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔

شیبوۃ کے پڑوس میں واقع صوبے ابین میں ہفتے کی رات امریکی ڈرون نے میزائل حملہ کیا تھا۔اس میں القاعدہ کے چھے مشتبہ جنگجو مارے گئے تھے۔ مقتولین دو گاڑیوں پر ابین کے پہاڑی علاقے محفاد میں سفر کررہے تھے کہ وہ میزائل حملے کا نشانہ بن گئے۔

واضح رہے کہ امریکی سی آئی اے نے پاکستان کے بعد یمن میں گذشتہ دوسال سے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف ڈرون حملے شروع کررکھے ہیں۔ امریکا اس تنظیم کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ خطرناک اور فعال خیال کرتا ہے۔

واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک نیو امریکا فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے 2012ء میں یمن میں القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف ڈرون حملوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ کردیا تھا۔ امریکی سی آئی اے نے سال 2011ء کے دوران یمن میں صرف اٹھارہ میزائل حملے کیے تھے جبکہ گذشتہ سال تریپن ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

ان میزائل حملوں میں القاعدہ کے متعدد سرکردہ جنگجو مارے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود تنظیم کی یمنی سکیورٹی فورسز پر حملوں یا ان کی مزاحمت کی صلاحیت میں کوئِی کمی واقع نہیں ہوئی ہے اور اس کے جنگجو آئے دن یمنی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔