آشٹن نے 'پرواز چھوٹنے کے ڈر' سے نیوز کانفرنس ادھوری چھوڑ دی

یورپی یونین کی عہدیدار کے بیان پر مصر کے عبوری نائب منہ دیکھتے رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یورپی یونین کی فارن پالیسی چیف کیتھرین آشٹن نے مصر کے عبوری نائب صدر محمد البرادعی کے ہمراہ نیوز کانفرنس یہ کہتے ہوئے ادھوری چھوڑ دی کہ انہیں واپسی کے لئے پرواز لینا ہے۔

آشٹن گذشتہ دو دنوں سے دارلحکومت قاہرہ میں مصری سیاسی حریفوں کے درمیان معاہدہ کرانے کی کوشش میں مصروف رہی ہیں۔ اپنے دورے کے آخری دن انہوں نے عبوری نائب صدر البرادعی کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا اور اس دوران اچانک یہ کہتے ہوئے صحافیوں اور حاضرین سے معذرت کر لی کہ وہ کانفرنس مزید جاری نہیں رکھ سکتیں کیونکہ انہیں واپسی کے لئے پرواز لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کی واپسی کی پرواز کا وقت ہو گیا ہے اور جہاز ان کا انتظار نہیں کرے گا، اس لئے میں نیوز کانفرنس جاری نہیں رکھ سکوں گی، مسٹر البرداعی اپنی بات جاری رکھیں گے۔

مصر میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی، عبوری صدر عدلی منصور، برطرف صدر محمد مرسی اور نوجوانوں اور دیگر اسلامی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔

"اے ایف پی" کے مطابق کیتھرین آشٹن نے تین جولائی کو اپنی برطرفی کے بعد سے خفیہ مقام پر قید ڈاکٹر محمد مرسی سے ملاقات کے بعد بتایا کہ وہ "خریت سے ہیں"، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ مرسی سے ان کی ملاقات کہاں ہوئی۔

آشٹن کے دورے کے بعد عبوری حکومت اور نہ ہی صدر مرسی کے حامیوں نے اپنے اپنے موقف میں کسی تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔
صدر مرسی کے حامیوں نے ہفتے کے روز 82 افراد کی ہلاکت اور نیشنل ڈیفنس کونسل اور فوج کی دھمکیوں کے باوجود اپنی احتجاجی ریلیاں جاری رکھیں۔

انہوں نے آشٹن کی آمد کے موقع پر ملین مین مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں ایک بڑا مارچ کرنے کے بجائے انہوں نے ملک بھر میں چھوٹی چھوٹی ریلیاں نکالیں، جو دن کے اختتام پر پرامن طریقے سے منتشر ہو گئیں۔

معزول صدر سے منگل کے روز دو گھنٹے پر محیط ملاقات میں کیتھرین آشٹن نے نیوز کانفرنس کو بتایا کہ وہ [مرسی] خریت سے ہیں۔ انہیں ٹی وی اور اخبارات کی صورت میں معلومات تک رسائی حاصل ہے۔ اس لئے ہم نے حالات حاضرہ پر تبادلہ خیال کیا اور آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے معزول صدر کی گفتگو کو کوئی معنی پہنانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے انتہائی دوستانہ اور صراحت کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔" انہوں نے بتایا کہ میں نے دورہ مصر کے لئے صدر مرسی سے ملاقات کی شرط رکھی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے عبوری حکومت پر واضح کیا تھا کہ اگر مجھے معزول صدر سے آزادنہ طور پر ملنے نہ دیا گیا تو میں مصر نہیں آؤں گی۔

آشٹن نے یہ بات بھی واضح کر دی کہ ان کی معزول صدر، حکومتی اہلکاروں اور اپوزیشن کے نمائندوں سے ملاقاتوں کا مقصد انہیں مذاکرات پر آمادہ کرنا نہیں تھا۔ ہم تو ان کے خیالات کا یکجا کرنا چاہتے ہیں تاکہ کوئی مشترکہ سوچ سامنے لائی جا سکے۔

ادھر یورپی یونین کے ہیڈکوارٹر برسلز میں آشٹن کے ترجمان مائیکل مان نے ایک بیان میں واضح کیا کہ یورپی یونین کا کردار اس لئے کلیدی ہے کیونکہ ہر کوئی ہم سے بات کرنے کو تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں