اسرائیلی کنیسٹ میں پہلی مرتبہ فلسطینی پرچم لہرا دیا گیا

"پی ایل او" کے وفد کےاسرائیلی اراکین اسمبلی سے مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان ماضی میں بھی مذاکرات کے کئی ادوار آئے لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فلسطینی پرچم اسرائیلی کنیسٹ میں بھی لہرایا گیا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینی پرچم کشائی اس وقت کی گئی جب تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کے ایک وفد نے اسرائیلی اراکین پارلیمان سے تبادلہ خیال کیا۔ خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کے مطابق اجلاس میں فلسطینی وفد کے ساتھ اسرائیل کے 33 اراکان پارلیمنٹ نے واشنگٹن میں جاری امن بات چیت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ فلسطینی اور اسرائیلی حکام کے درمیان اس رسمی ملاقات کا مقصد امریکا میں ہونے والے راست مذاکرات کی حمایت کرنا تھا۔

اجلاس میں صدرمحمود عباس کی جماعت 'فتح' کی سینٹرل کمیٹی کے رُکن محمد المدنی، رکن قانون ساز کونسل عبداللہ عبداللہ، سابق وزیر برائے امور اسیران اشرف العجرمی، الیاس زنانیری اور ولید سالم جبکہ یہودی لابی کے مختلف گروپوں کے نمائندہ 33 اسرائیلی ارکان پارلیمنٹ موجود تھے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی وفد کے سربراہ محمد المدنی کا کہنا تھا کہ اسرائیلیوں کے ساتھ بات چیت فلسطینی انتظامیہ کے صدر ابو مازن کی ہدایت پر کی گئی ہے۔ بات چیت مثبت رہی ہے۔ اجلاس کے دوران ہم نے خطے میں دیرپا امن کے لیے جاری عالمی مساعی کو بلا تعطل آگے بڑھانے اور مذاکرات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

ایک سوال کے جواب میں محمد المدنی نے کہا کہ مذاکراتی وفد میں یہودیوں کے تمام گروپوں کی نمائندگی موجود تھی۔ ہم نے سابق اور موجودہ اسرائیلی وزراء سے بھی ملاقات کی، اراکین کنیسٹ سے ملے۔

خیال رہے کہ فلسطینی انتظامیہ اوراسرائیل کے درمیان تین سال سے تعطل کا شکار مذاکرات پیر کے روز امریکا کی نگرانی میں واشنگٹن میں شروع ہوئے تھے۔ فلسطین میں صدر محمود عباس کی جماعت 'فتح' کے سوا کوئی بھی نمائندہ فلسطینی تنظیم ان مذاکرات کی حامی نہیں بلکہ مغربی کنارے اورغزہ کی پٹی میں راست مذاکرات کی بحالی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں