امیر کویت نے اپنی توہین کے مجرموں کی سزا معاف کر دی

رمضان کے باعث معافی پانے والوں میں خواتین کارکن بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے ان تمام افراد کے لیے معافی کا اعلان کیا ہے جنہیں سربراہ مملکت کی توہین کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

ایک طویل کریک ڈاون میں گرفتار کیے جانے والے ان درجنوں افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے امیر کویت کے بارے میں سیاسی حوالے سے تبصرے کیے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر نے اس ''جرم'' کا ارتکاب مبینہ طور پر آن لائن کیا تھا۔ جس کی پاداش میں انہیں گیارہ برس تک کی سزا سنائی گئی تھی۔ کویتی امیر کے خلاف توہین آمیز تبصرے کرنے والوں میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں میں مردوں کے علاوہ خواتین بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بعض کو عدالت پہلے ہی بری کر چکی ہے۔

امیر کویت نے سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں سزا معاف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ''رمضان کے آخری عشرے کے آغاز پر مجھے خوشی ہے کہ میں ایسے تمام لوگوں کو عام معافی دے رہا ہوں جنہیں امیر کے خلاف جرم کرنے پر سزا سنائی گئی تھی''۔ واضح رہے سزا معافی کے اعلان پر فوری عمل ہو گا۔

خلیجی خطے کی روائت ہے کہ رمضان المبارک میں قیدیوں کی سزائیں معاف کی جاتی ہیں۔ اگرچہ کویت میں دوسری ریاستوں کے مقابلے میں نسبتا زیادہ اختلاف رائے کی اجازت ہے، تاہم کویت کے آئین میں امیر کویت کو قابل احترام قرار دیا گیا ہے اور کویت کے تعزیراتی قوانین میں بھی اس کے احترام کے تحفظ کے لیے دفعات شامل ہیں۔

انسانی حقوق سے متعلق عالمی ادارے اس سلسلے میں مختلف رائے رکھتے ہیں اور کویت کے بارے میں یہ دعوی رکھتے ہیں کہ اسے خلیج میں آزادی کی مشعل کہلانے کا حق نہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کویت کے تعزیراتی قوانین میں تبدیلی کی جائے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے لیے یہ معاملہ ماہ اکتوبر میں اس وقت حساسیت اختیار کر گیا تھا جب امیر کویت نے ہنگامی اختیارات کے تحت پارلیمانی نظام کا ووٹنگ سسٹم تبدیل کر دیا تھا۔

امیر کویت کی جانب سے پارلیمانی ووٹنگ کے نظام میں کی گئی تبدیلی پر اپوزیشن نے الزام لگایا تھا کہ یہ اس کا رستہ روکنے کی کوشش ہے، جبکہ امیر کویت کا موقف تھا کہ ''قوانین کی تبدیلی سے کویت کا استحکام اور سالمیت یقینی بن گئی ہے۔'' یاد رہے کویتی حزب اختلاف کے رہنما مسلم البراک کو بھی امیرکویت کی توہین کرنے پر پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اپوزیشن رہنما نے امیر کویت کو مشورہ دیا تھا کہ ''آمرانہ طرز حکمرانی سے احتراز برتیں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں