تیونس کے وزیر تعلیم مستعفی، حکومت پر دباؤ میں اضافہ

حزب اختلاف کا النہضہ کی قیادت میں حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے وزیر تعلیم سالم لبیض اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں جس کے بعد اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں حکومت پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔

تیونس میں گذشتہ ہفتے حزب اختلاف کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ایک لیڈر محمد براہیمی کے قتل کے بعد سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور حزب اختلاف کی جماعتیں اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

سیکولر نظریات کے حامل سالم لبیض نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ بائیں بازو کے رکن اسمبلی محمد براہیمی کے قتل کے بعد سے مستعفی ہونے کا سوچ رہے تھے۔ تیونس کے انتہا پسندوں پر محمد براہیمی کے قتل کا الزام عاید کیا گیا ہے جبکہ حزب اختلاف نے النہضہ پر ان کے قتل کا الزام عاید کیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتیں، ملک کی بڑی لیبر یونین اور النہضہ کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل سیکولر جماعت اعتکاتول وزیر اعظم علی العریض کی قیادت میں کابینہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حزب اختلاف عبوری دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کرنے کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔

تیونس میں حکومت نے حزب اختلاف کے حالیہ مظاہروں کے بعد 17 دسمبر کو آیندہ عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے لیکن اس نے حزب اختلاف کے دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ تیونسی صدر منصف مروزقی نے ایک نشری تقریر میں ملک کے سیاسی طبقے پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کی جانب لوٹ آئے کیونکہ ملک اور معاشرہ خطرے میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں