فلپائن کے امن دستے گولان کی چوٹیوں پر تعینات رہیں گے

عالمی امن فورس کے تحفظ کے لیے اقدامات کے بعد فلپائنی حکومت کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلپائن نے شام اور اسرائیل کے درمیان حد متارکہ جنگ (سیزفائرلائن) کی نگرانی کے لیے گولان کی چوٹیوں پر اپنے تین سو چالیس فوجیوں کو تعینات رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے گولان کی چوٹیوں پر اپنے امن دستوں کے تحفظ کے لیے بعض اقدامات کیے ہیں جس کے بعد فلپائن کے خارجہ سیکرٹری البرٹ ڈیل روساریو نے کہا ہے کہ فلپائنی فوجیوں کو 11 اگست کے بعد بھی وہاں تعینات رہنے کی اجازت ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے گولان میں صورت حال بہتر ہونے کے بعد صدر بنجینواکینو کو سفارش کی ہے کہ فوجی مزید چھے ماہ کے لیے وہاں تعینات رہ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ گولان کی چوٹیوں پر تعینات فلپائن کے فوجیوں کے دومرتبہ اغوا کیا گیا تھا۔اس کے بعد اس نے وہاں سے اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔ان دونوں گروپوں کو اغوا کاروں نے کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر رہا کردیا تھا۔البتہ جون میں گولہ باری سے ایک فلپائنی فوجی زخمی ہوگیا تھا۔

فلپائن نے فوجیوں کے اغوا اور حملوں کے بعد گولان پر امن دستے تعینات رکھنے کے لیے اقوام متحدہ کو تین شرائط پیش کی تھیں۔پہلی یہ کہ امن فورس میں شامل فوجیوں کی تعداد بڑھا کر 1250 کی جائے۔فوجیوں کو اضافی فوجی آلات مہیا کیے جائیں اور فلپائن کو اپنے فوجیوں کی تعیناتی کا ہر چھے ماہ کے بعد جائزے کا اختیار ہونا چاہیے۔

یادرہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے بھی بہ ذات خود شام اور اسرائیل کے درمیان متنازعہ علاقے گولان کی چوٹیوں پر تعینات عالمی امن فورس کو بہتر تحفظ مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

بین کی مون نے سلامتی کونسل سے یہ مطالبہ شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران حملوں اور اغوا کی وارداتوں کے بعد آسٹریا کے فوجیوں کو واپس بلانے کے بعد کیا تھا۔اس سے پہلے کروشیا اور جاپان نے بھی علاقے میں تعینات اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا۔ان کی جگہ فجی نے اپنے 562 فوجی امن فورس میں تعینات کرنے کے لیے بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں