نیٹو کی مصر پر گہری نظر، مگر کسی کارروائی کا ارادہ نہیں

شمالی افریقہ میں عدم استحکام کے نیٹو اتحادیوں پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں: امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کا کہنا ہے کہ اس نے مصر میں جاری بحران اور اس کے تنظیم کے ''شراکت داروں'' پر اثرات پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے مگر وہ اس ملک میں کسی اقدام کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

نیٹو کے یورپ میں سپریم اتحادی کمانڈر امریکی فضائیہ کے جنرل فلپ مارک بریڈ لوو نے کہا کہ ''اس وقت نیٹو مصر میں کسی قسم کی کارروائی کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کررہی ہے۔ ہم شام کی طرح مصر پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس سے ہمارے نیٹو شراکت داروں پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ اگر ہمیں ضرورت پڑی تو ہم اپنے نیٹو شراکت داروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گے''۔

جنرل بریڈلوو نے منس، بیلجئیم میں واقع نیٹو فوج کے آپریشنل ہیڈکوارٹرز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بحر متوسطہ کے ساتھ واقع نیٹو کے بہت سے ممالک شمالی افریقہ میں رونما ہونے والے واقعات سے متاثر ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''شمالی افریقہ میں رونما ہونے والے واقعات کے نتیجے میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، تجارت ، منشیات سمیت یورپ میں ہر طرح کی چیزیں متاثر ہوئی ہیں۔شمالی افریقہ میں عدم استحکام واضح طور پر نیٹو اقوام کے لیے تشویش کا سبب ہے''۔

یورپی یونین نے اپنی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن کو سوموار کو مصر میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوشش کی غرض سے قاہرہ بھیجا تھا لیکن ان کا مشن کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہا ہے۔ وہ تین جولائی کو منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے مصر کے دودورے کرچکی ہیں۔

درایں اثناء امریکی صدر براک اوباما نے ری پبلکن سینیٹرز لنڈسے گراہم اور جان مکین کو مصر کے دورے کے لیے کہا ہے تاکہ وہ مصر کی مسلح افواج پر ملک میں جمہوری عمل کو تیز کرنے کے لیے دباؤ ڈال سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں