.

اخوان کے دھرنا کیمپوں کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کے اشارے

"رت جگا" کیمپ ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں: عبوری کابینہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی عبوری حکومت نے معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کی جانب قاہرہ میں دو مقامات پر لگائے کئے رت جگے کیمپوں کو قومی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے انہیں طاقت استعمال کر کے ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

حکومت گذشتہ ایک ماہ سے ان کیمپوں میں دھرنا دینے والے اخوان المسلمون کے کارکنوں کو اگر طاقت استعمال کرکے منتشر کرتی ہے تو اس کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اخوان المسلمون کے کارکنوں میں خونریز تصادم کا امکان ہے۔

برطرف صدر مرسی کے حامیوں نے ان کی تین جولائی سے معزولی کے بعد سے دارلحکومت کے دو اہم مقامات پر دھرنا کیمپ لگا رکھے ہیں۔ کئی ہفتوں سے جاری پرتشدد کارروائیوں میں تین سو افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ان میں 80 وہ لوگ بھی شامل ہیں کہ جو شمالی قاہرہ میں ایک مسجد کے باہر رت جگا کیمپ میں محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی پر احتجاج کر رہے تھے۔

فوج کی نامزد عبوری کابینہ نے میڈیا پر نشر ہونے والے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ 'دہشت گردانہ کارروائیاں'، احتجاجی دھرنوں سے ٹریفک کے بہاؤ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ تمام صورتحال ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

"کابینہ نے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عبوری وزیر داخلہ کو دستور کے اندر رہتے ہوئے اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا فریضہ سونپ دیا ہے۔"

کابیبہ کے بیان سے چند لمحے پہلے عدالتی ذرائع نے بتایا کہ حکام نے اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع اور تنظیم کے دو سینئر عہدیداروں کو عدالت میں پیش کیا ہے۔ ان پر عوام کو تشدد پر اکسانے کا الزام عاید کیا گیا تھا، تاہم اخوان المسلمون کے مرشد عام کو ابھی حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔

ان اقدامات کے بعد بین الاقوامی برادری میں یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ فوج کے حمایت یافتہ عبوری حکمران اخوان المسلمون کو دبانے کی کوشش کریں گے۔ اخوان المسلمون کئی دہائیوں سے پہلی حکومتوں کے عتاب کا شکار چلی آ رہی تھی، تاہم سن 2011ء میں سابق فوجی آمر حسنی مبارک کی عوامی انتفاضہ کے ذریعے معزولی کے بعد ہونے والے انتخابات میں تنظیم نے کامیابی حاصل کی۔

کابینہ کے دھمکی نما بیان کو اخوان المسلمون کے دھرنا کیمپوں میں شریک افراد نے کلی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے نوجوان ترجمان جہاد الحداد کا کہنا ہے کہ ہم اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، ہم ایسے حکمرانوں اور ان کے بنائے گئے قوانین کو قبول نہیں کرتے ہیں۔

کابینہ کی دھمکی کے بعد متوقع تصادم سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے جہاد الحداد نے کہا کہ حکمران اس بات کی پہلے دو مرتبہ کوشش کر چکے ہیں جس میں انہیں بری طرح ناکامی ہوئی۔ انہوں نے دو سو مظاہرین کو موت کی نیند سلا دیا، کیا یہ دوبارہ ایسی کوشش کرنا چاہتے ہیں؟