.

مارٹن انڈیک: مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی کھڑکی کھلی رکھ سکیں گے؟

نئے امریکی ایلچی بیک وقت نیتن یاہو، محمود عباس اور نبیل فہمی کے دوست ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے کی کٹھنائیاں طے کرنا پچھلے 23 برسوں کے دوران امریکا کا اہم ہدف رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر امریکی حکومت تواتر اور اہتمام کے ساتھ مختلف نمائندے مقرر کرتی رہی ہے۔ مارٹن انڈیک اسی مقصد کی خاطر اوباما انتظامیہ کا نیا انتخاب ہیں۔ وہ ایک منفرد صلاحیتوں اور مہارتوں کی حامل شخصیت ہیں، جنہیں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان امن معاہدے کے امریکی خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ مارٹن انڈیک کو جاننے والوں کے خیال میں وہ ذاتی تعلقات کو عملیت کی کٹھالی میں ڈال کر خوب آمیزہ بناتے ہیں۔ مسئلے کا ادراک اور ان کی شخصیت میں مرغوبیت کا عنصر ان کے خاص ہتھیار ہیں۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پرورش پانے والے مارٹن انڈیک کے لیے امن کوششیں اجنبی نہیں ہیں۔ مارٹن کو امریکا کا ایلچی مقرر کرنے کا بنیادی سبب بھی یہی ہے کہ وہ لمبے عرصے سے کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکنے والی کوششوں کو اپنے تجربے کی مدد سے کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کردار ادا کر سکیں۔ دو مرتبہ اسرائیل میں امریکی سفیر رہنے کا تجربہ رکھنے والے مسٹر انڈیک 2001 میں امریکی حکومت کا حصہ نہ رہنے کے بعد واشنگٹن کے ایک ممتاز تھنک ٹینک بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے سبان سنٹر سے وابستہ ہو گئے۔ بعد ازاں انہیں اس تھنک ٹینک کے نائب سربراہ اور خارجہ پالیسی کے ڈائریکٹر بننے کا موقع ملا۔

انڈیک سے شناسا لوگ عام طور پر انہیں ایک حقیقی مذاکرات کار قرار دیتے ہیں۔ مذاکرات کے میدان کا ایک ایسا کھلاڑی ہونے کے ناطے انڈیک مشرق وسطی کے امن عمل کے پورے کھیل اور کھلاڑیوں کو اچھی طرح جانتا بھی ہیں اور سمجھتے بھی۔ مارٹن انڈیک مشرق وسطی کو الف سے ے تک جانتا ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے دوحا سنٹر کے ڈائریکٹر سلمان شیخ انڈیک کو مشترکہ موضوعات کی وجہ سے سنہ 2000 سے جانتے ہیں۔ سلمان شیخ نے انڈیک کے بارے میں بذریعہ فون العربیہ کو بتایا کہ ''وہ ایک مکمل مذاکرات کار ہے، بھرپور مرغوب شخصیت اور ایک فرد جو بوقت ضرورت گرمجوش محبت ظاہر کرنے سے کبھی نہیں گھبراتا۔'' واقعہ یہ ہے کہ اس طرح کی شناخت مارٹن انڈیک کو برس ہا برس سے میسر ہے۔ وہ اسرائیل سے متعلق پالیسی کے معاملات کو بل کلنٹن کے دور صدارت سے اس وقت سے دیکھ رہے ہیں جب اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم کے ساتھ نکتہ نظر کا اختلاف تھا۔

بیک وقت دو متحارب نکتہ ہائے نظر کے حامل افراد کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو نبھانا مارٹن اندیک کی غیر معمولی صلاحیت کا اظہار ہے۔ امریکی ٹاسک فورس برائے فلسطین کے صدر زیاد اصالی کے مطابق ''امریکا کا خصوصی ایلچی ہوتے ہوئے یہ صلاحیت فلسطین اور اسرائیل کی موجودہ سیاسی صورت حال کو سمجھنے میں مددگار ہو گی۔'' اصالی کا کہنا ہے کہ ''امریکا کے اس نئے ایلچی کی غیر معمولی بات یہ ہے کہ وہ سفارتی تنگنائیوں اور ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں سے بھی آسانی سے گذرنا جانتے ہیں۔''

امریکی ٹاسک فورس کے صدر زیاد اصالی نے العربیہ کو بتایا ''انڈیک مذہباً یہودی ہیں، لیکن اس کے باوجود مختلف فلسطینی رہنماوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھتے ہیں۔ ان کا محمود عباس ہی نہیں ،سلام فیاض کے علاوہ مرحوم یاسر عرفات کے ساتھ بھی گہرا تعلق تھا۔'' اصالی کے بقول ''مارٹن انڈیک نے جس طرح فلسطینی رہنماوں سے قریبی تعلق رکھا بالکل اس طرح بنجمن نیتن یاہو، اسرائیلی وزیر قانون زیپی لیونی، سابق اسرائیلی وزیر اعظم ایہود باراک کے ساتھ بھی قربت کو برقرار رکھا۔''

''بروکنگز'' کے علاقائی سربراہ نے بتایا انڈیک نے انسٹی ٹیوٹ کا حصہ ہوتے ہوئے خلیجی رہنماوں کے ساتھ روابط بنائے، قطر، عرب امارات اور سعودی عرب کے ساتھ معاہدات کیے۔ اسی طرح مصر کے موجودہ وزیر خارجہ نبیل فہمی کے ساتھ انڈیک کا دوستانہ ہے۔''

مارٹن انڈیک کے حوالے سے یہ معروف بات ہے کہ وہ 1980 کی دہائی کے آغاز میں اسرائیلی پالیسیوں کے ایک اہم وکیل سمجھے جانے والے ادارے''امریکن اسرائیل پبلک افئیرز کمیٹی'' کے ڈپٹی ریسرچ آفیسر رہ چکے ہیں۔ تاہم سلمان شیخ اور اصالی دونوں کا خیال ہے کہ ان کے موقف میں اب بہت وسعت آ چکی ہے۔ اصالی کے مطابق'' انڈیک نے برسوں کے تجربے سے بہت کچھ سیکھا اور تبدیل کیا ہے۔ اب وہ اسرائیل کے ہمنوا بھی ہیں اور دو ریاستی تصور کے حامی بھی۔'' انڈیک کے خیال میں ''دو ریاستی تصور کی کھڑکی بند ہونے کو ہے جبکہ ان کی کوشش ہے کہ مشرق وسطی میں امن کی خاطر اسے کھلا رکھنے کے لیے آخری موقع ضرور دینا چاہیے۔''

دوحا میں دیے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں انڈیک نے اپنی نئی'' اسائنمنٹ ''کے حوالے سے جان کیری کی آشاوں کا ذکر بھی اسی طرح کے الفاظ میں کیا ''جان کیری دو ریاستوں کے ذریعے اس دیرینہ مسلے کے حل کی کھڑکی بند ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے، اسی لیے امن عمل کو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ نو ماہ کے اندر اندر ایک معاہدہ سامنے آ سکے ۔'' مارٹن انڈیک کے مطابق امن عمل 2002 میں سعودی عرب کی طرف سے متعارف کرایا گیا تھا اس عمل میں محمود عباس کو عرب لیگ کی حمائت بھی حاصل ہے جو یاسر عرفات کو کیمپ ڈیوڈ کے دوران حاصل نہ تھی۔''

اپنے تصورات کو بہ احسن مارکیٹ کرنے والے انڈیک کسی دھوکے یا خوش فہمی کا شکار بالکل نہیں، بلکہ اس امن عمل کی مشکلات راہ کا انہیں خوب اندازہ ہے۔ وہ فتح اور حماس کے درمیان فاصلوں کو جانتے ہیں، اسرائیلی نیتن یاہو کی حکومت کے فطری رجحانات کو سمجھنے کے باعث خوب اندازہ کرسکتے ہیں کہ دو ریاستوں کے حوالے سے نیتن کی مشکلات کیا ہوں گی۔

مارٹن انڈیک کا یہ بھی کہنا ہے کہ محمود عباس'' ڈیل'' کرنے کو تیار ہے مگر اس میں صلاحیت نہیں، دوسری جانب نیتن یاہو اہلیت رکھتا ہے البتہ اسکے ہاں مسلہ حل کرنے کے لیے آمادگی نہیں ہے۔ درحقیقت یہی مارٹن انڈیک کا امتحان ہے کہ وہ محمود عباس کی ڈیل کرنے کی صلاحیت اور نیتن یاہو کے مبینہ اسرائیلی مفادات پر ڈیل نہ کرنے کے درمیان سے اپنا راستہ کیونکر نکالتے ہیں، جو امریکا کے افغانستان سے انخلاء کے سال امریکا کی ساکھ میں اضافے اور عرب دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی کلچر میں اسرائیل کے تحفظ کا موجب بن سکے۔