.

دبئی: سخت گرمی میں بچوں کو گاڑی میں چھوڑ جانے سے ہلاکتیں

تازہ واقعہ میں تین سالہ بچہ ہلاک، رستامانی نامی کمپنی کی آگاہی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات جہاں سخت گرمی پڑتی ہے والدین کی کوتاہی اور لاپرواہی کے باعث بچوں کے لقمہ اجل بن جانے کے ایسے واقعات پیش آئے ہیں جس میں اہالیان دبئی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب تک گاڑیوں میں چھوڑ کر والدین کے شاپنگ یا دیگر امور میں مصروف ہوجانے کے باعث بچوں کی ہلاکت کے کئی واقعات پیش آگئے ہیں جن میں تازہ ترین واقعہ تین سالہ یمنی بچے کی ہلاکت کا پیش آیا جسے والدین سخت گرمی کے باجود گاڑی میں بند کرکے چلے گئے تھے۔ جب والدین واپس آئے تو ننھا پھول مکمل طور پر مرجھا چکا تھا۔

دبئی میں موسم گرما کے دنوں میں عام طور پر درجہ حرارت 45 ڈگری سنٹی گریڈ کو چھو رہا ہوتا ہے۔ اس لئے پارکنگ ایریاز میں کھڑی گاڑیوں کے اندر کا درجہ حرارت تھوڑے ہی وقفے کے بعد بیرونی درجہ حرارت 45ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھ کر 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے جو بچے کیا بڑوں کی زندگی اور صحت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بچے کے جسم کا اندرونی درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو اس کا دماغ اور دوسرے ضروری اعضاء کو دس منٹ کے اندر اندر نقصان پہنچ سکتا ہے اور اگر وہ کچھ دیر مزید شدید گرمی میں رہے تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ عام طور پر والدین انتہائی ننھے بچوں کو گاڑیوں میں چھوڑ جاتے ہیں جو اپنی مدد آُپ کے تحت نہ گاڑی کا شیشہ کھول سکتے ہیں نہ گآڑی کا اے سی آن کرسکتے ہیں اور نہ گاڑی کا دروازہ کھول سکتے ہیں اس لئے والدین کی واپسی تک ان کی جان بچ بھی جائے تو گرمی کی شدت کی وجہ سے ان کے دماغ اور ضروری اعضاء کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔

اسی آگاہی کو عام کرنے کے لئے اے ڈبلیو رستامانی [AW Rostamani] کمپنی ان دنوں "گاڑی میں تیار شدہ بسکٹ" کے نام سے ایک دستاویزی فلم دکھانے کا اہتمام کررہی ہے جس کا مقصد بچوں کو گاڑیوں میں اکیلے چھوڑے جانے کے خلاف زہن سازی کی جائے۔

اے ڈبل یو روستامانی گروپ کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم میں دکھایا گیا ہے کہ اگر کسی گاڑی کو چلچلاتی دھوپ میں کھڑا کردیا جائے تو اس کے اندر کا درجہ حرارت اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اس کے ڈیش بورڈ پر بسکٹ تیار کئے جاسکتے ہیں۔ اس مہم کا نصب العین ہے،"اگر اتنی گرمی ہے کہ کچھ پکایا جاسکتا ہے تو اس سے جان بھی جا سکتی ہے۔"

کمپنی کے ڈائریکٹر میشال عیاط کا کہنا ہے،"کسی بھی خاندان کے لئے اپنے بچے کو کھونا انتہائی افسوسناک بات ہوتی ہے مگر اس کا افسوس اس وقت بہت زیادہ ہوتا جب حادثے سے بچنا ممکن ہو۔ اس لئے بہتر ہے کہ بچوں کو گاڑیوں میں تنہا نہ چھوڑا جائے تاکہ اس طرح کے واقعات پیشگی روکے جا سکیں۔