.

دمشق: القاعدہ کے عسکری گروپوں نے دو سو کرد دیہاتیوں کو یرغمال بنا لیا

کردوں نے جیش الحر کو بھی القاعدہ کی حامی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے منسلک عسکریت پسندوں کے گروپ نے خوفناک تصادم کے بعد شام کے تقریبا دو سو کرد دیہاتیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ خوفناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب النصرہ فرنٹ، اسلامی ریاست عراق و شام نامی عسکریت پسند گروپوں نے صوبہ حلب میں تال آرین نامی گاوں کا محاصرہ کر لیا۔ عسکریت پسندوں کے حوالے سے اطلاع ملی ہے کہ وہ قریبی گاوں تال حاصل کا بھی محاصرہ کر رہے ہیں۔ عسکریت پسندوں نے دونوں دیہات کے تقریبا دو سو افراد کو یرغمال بنا لیا۔

لندن میں انسانی حقوق کے لیے قائم ابزرویٹری کے مطابق کرد ملیشیا نے ایک کرد رہنما کے قتل کے بعد کال دی تھی۔ واضح رہے کرد لیڈرعیسی حسو کردوں اور اسلام پسندوں کے درمیان تصادم میں مارا گیا تھا۔ جس کے بعد تمام کرد عوام سے آگے بڑھ کر کرد ملیشیا کا حصہ بننے کے لیے کہا گیا تھا تاکہ جہادی گروپوں کا مقابلہ کر سکیں۔

کرد ملیشیا کے مطابق ''ہماری بار بار کی اپیلوں کے باوجود قومی اتحاد اور جیش الحر انتہا پسندوں کے خلاف کوئی واضح پوزیشن لینے میں ناکام رہیں۔' اس کا صاف مطلب ہے کہ جیش الحر، النصرہ فرنٹ اور اسلامی ریاست عراق و شام کی طرز کے جہادی گروپوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ نیز کردوں پر حملوں میں ایف ایس اے بھی ملوث ہے۔ واضح رہے کردوں کو ایک طویل عرصے سے شام میں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔