.

شامی صدر کا جنگ جیتنے کا عزم، فوج کے کردار کی تعریف

فوجی باغیوں کے خلاف سخت جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ سرخرو ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے باغیوں کے خلاف جنگ میں اپنے فوجیوں کے کردار کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک سخت جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ اس میں سرخرو رہیں گے۔

بشارالاسد نے یہ بیان جمعرات کو شامی فوج کے قومی دن کے موقع پر جاری کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''اگر ہمیں شام میں کامیابی کا یقین نہ ہوتا تو ہم دوسال سے زیادہ عرصے تک مزاحمت نہیں کرسکتے تھے''۔

شام میں اسد خاندان کی حکمرانی کے خلاف مارچ2011ء سے جاری عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران ایک لاکھ زیادہ شامی مارے جا چکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔ شامی صدر کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک پُرامن مظاہروں سے شروع ہوئی تھی لیکن یہ چند ماہ بعد ہی مکمل خانہ جنگی کی شکل اختیار کرگئی اور اب شام کے طول وعرض میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے جس میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

شامی صدر کی فورسز نے حالیہ ہفتوں کے دوران باغی جنگجوؤں کی فتوحات کو روک دیا ہے اور انھوں نے ملک کے متعدد شہروں پر دوبارہ کنٹَرول حاصل کر لیا ہے۔خاص طور پر شامی فوج وسطی صوبے حمص اور دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں سے باغی جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے میں کامیاب رہی ہے۔