.

فلسطینیوں پر سرعام تشدد کے مرتکب اسرائیلی فوجی کو دو ماہ قید

چار سال قبل سامنے آنے والی ویڈیو پرعدالتی فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہ صرف اسرائیلی حکومت، سیاسی حلقوں، انتہا پسند جماعتوں اور فوج میں دیکھا جاتا ہے بلکہ اسرائیلی عدالتیں بھی اس میدان کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ حال ہی میں اسرائیل کی ایک عدالت نے معصوم فلسطینی شہریوں کو سرعام بہیمانہ انداز میں پیٹنے والے فوجی افسر کو محض دو ماہ قید اور دس ہزار ڈالرجرمانہ کی سزا کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیل کی عدالت نے چار سال قبل وادی اردن میں صہیونی فوجی افسر کے ہاتھوں فلسطینی کاشت کاروں کو بندوق کے بٹ سے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی ویڈیو پر فیصلہ سنایا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پرموجود ویڈیو کلپ میں ایک یہودی فوجی اہلکارکو نہایت بے رحمی کے ساتھ دو نہتے فلسطینیوں پر تشدد کرتے دکھایا گیا ہے۔ بندوق کے بٹ مار کرایک فلسطینی شہری کے کئی دانت توڑ دیےگئے تھے۔ اس کے علاج میں فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کا مالی تعاون بھی نہیں کیا گیا۔

یہ واقعہ چار سال پہلے وادی اردن میں فصائل قصبے میں پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی مغربی کنارے میں تعینات اسپیشل یونٹ کے ایک فوجی افسر نے فلسطینی شہریوں کو اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ کھیتی باڑی میں مصروف تھے اور ان سے قابض فوج کو کوئی خطرہ بھی نہیں تھا۔ اسرائیلی عدالت نے تشدد کے مرتکب فوجی افسر کو محض دو ماہ قید اور دس ہزار ڈالرجرمانہ کی سزا سنائی ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی فوجی کی غنڈہ گردی کا نشانہ بننے والے فلسطینی عبداللہ کتیبات نے صہیونی عدالت کے فیصلے کو ظالمانہ قراردے کر مسترد کردیا۔ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کو سنائی جانے والی سزا سے صہیونی عدلیہ کی جانب داری کھل کرسامنےآ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اگرمیرے ہاتھوں کسی اسرائیلی پر اس طرح تشدد کیا جاتا تو اسرائیلی عدالت کا فیصلہ مختلف ہوتا۔ کسی یہودی کی پٹائی کرنے پر میری کم سے کم سزا عمر قید یا پھانسی ہوتی، لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ میں ایک فلسطینی ہوں اور تشدد کا مرتکب اسرائیلی اور صہیونی فوج کا افسر ہے"۔

فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان ایھاب بسیسو نے اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتےہوئے عالمی برادری اورانسانی حقوق کی تنظیموں سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ خیال رہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے تشدد کے اسی فی صد واقعات کا کوئی مقدمہ یا ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جاتی۔