.

محتاط ردعمل سے امریکا کا قاہرہ پر اثر و رسوخ مشکوک ہو گیا؟

واشنگٹن، مرسی کی برطرفی کو فوجی بغاوت قرار دینے سے گریزاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں پیدا شدہ صورتحال کے بارے میں امریکا کے رویے نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ امریکا کو اپنے اتحادی ملک کے حوالے سے ابہام کی پوزیشن حاصل ہے۔

امریکا مصری فوج کے ساتھ دیرینہ عسکری تعاون اور دنیا بھر میں جمہوری اقدار کے حوالے سے اپنے موقف کے درمیان توازن لانے کی کوشش کرتا نطر آ رہا ہے۔ امریکا فوج کی قیادت میں مصری صدر کی برطرفی کو فوجی بغاوت کا نام دینے سے گریزاں ہے۔

مصری صورتحال کو فوجی بغاوت قرار دینے کی صورت میں امریکی حکومت کو قاہرہ کےلیے اپنی ڈیڑھ بلین ڈالر کی امداد روکنی پڑے گی۔ اس رقم کا بڑا حصہ فوج کے زیر استعمال آتا ہے جو اسرائیل کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کی ذمہ دار ہے۔

امریکی قانون کی رو سے اگر کسی ملک کے سربراہ کو فوجی انقلاب کے ذریعے برطرفی کی صورت میں اس ملک کو انسانی بنیادوں کے علاوہ دی جانے والی امداد معطل کر دی جائے گی۔

بدھ کو امریکی سینیٹر رینڈ پال کی طرف سے مصر کے لیے امریکی امداد معطل کرنے کیلیے سینٹ میں پیش کردہ تجویز تیرہ کے مقابلے میں چھیاسی ووٹوں سے مسترد کر دی گئی، جس کے بعد ان خیالات کو تقویت ملنا شروع ہو گئی کہ امریکی امداد کے جاری رہنے کی صورت میں واشنگٹن قاہرہ پر زیادہ اثرورسوخ استعمال کر سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز میں مشرق وسطی کے حوالے سے صدر باراک اوبامہ کے سابق ایلچی ڈینس بی راس نے بتایا ہے کہ مصر کے لیے امداد معطلی کی صورت امریکا قاہرہ پر اپنا اثرورسوخ کھو دے گا۔

اخبار نے مسٹر راس کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا کہ امداد معطلی کے اقدام کا ہمارے خلاف لا محالہ ردعمل آئے گا ۔ جس کے بعد ہم قاہرہ پر اپنا اثرورسوخ کھو دیں گے۔

ڈینس نے کہا کہ اپنے مفادات کی روشنی میں ہم اپنے آپ کو غیر متعلق اور غیر موثر نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے مصر میں بہت سے مفادات ہیں ، تاہم تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر مصر وصول کر رہا ہے یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اب امریکا کا مصر پر اپنا اثرورسوخ نہیں رہا۔

معروف امریکی تھینک ٹینک رینڈ کارپوریشن سے وابستہ فوجی اور غیر فوجی تعلقات کے ماہر جیفری مارٹنی نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ امریکا مصر کو مالی امداد فراہم کر کے اپنا اثرورسوخ قائم نہیں کر سکتا۔

امریکا کی جارج ٹاون یونیورسٹی میں بین الاقومی سکیورٹی کے ماہر پال سولیوان کی رائے میں امریکا کے پاس مصر پر اثر انداز ہونے کےلیے راہ راست مالی امداد کے علاوہ بھی طریقے موجود ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر سولیوان نے کہا کہ مصر میں موجود امریکی فوجی اسلحےکی صورت میں واشنگنٹن قاہرہ پر اپنا اثرورسوخ دکھا سکتا ہے۔

مصر میں موجود اسلحہ یا تو امریکی ہے یا مقامی طور پر تیار ہونے والے اسلحے میں امریکی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح امریکی فوجی اسلحے پر تربیت کی فراہمی اور مرمت کی صورت میں بھی قاہرہ امریکا کے تعاون کا مرہون منت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ برادر ملکوں کے اعلی فوجی حکام کے درمیان پروان چڑھنے والے ذاتی اور پیشہ وارانہ نوعیت کے تعلقات کی صورت میں امریکا بالواسطہ طور پر قاہرہ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ خلیجی ملکوں سے اربوں ڈالر مصر بھجوائے جا رہے ہیں اس کے باوجود امریکا مصر پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔