.

مرسی نواز مظاہرین منتشر ہوجائیں: مصری وزارت داخلہ کا ''حکم''

احتجاجی دھرنے ختم کرنے والوں کو محفوظ راستہ دینے کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی وزارت داخلہ نے برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے احتجاجی دھرنے ختم کردیں، انھیں محفوظ راستے کی ضمانت دی جائے گی۔

وزارت داخلہ نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ '' قاہرہ میں جامع مسجد رابعہ العدویہ اور النہضہ چوک میں دھرنے دینے والے معقولیت اور قومی سلامتی کا خیال رکھیں''۔ مصر کی عبوری حکومت نے گذشتہ روز بھی سابق صدر کے حامیوں پر زوردیا تھا کہ وہ اب مظاہروں کا سلسلہ ختم کر دیں۔

وزارت داخلہ نے اس اپیل کے جواب میں دھرنے ختم کرنے والوں کو محفوظ راستہ اور مکمل تحفظ دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ اگر سابق صدر کے حامی اور ملک کی سب سے منظم جماعت اخوان المسلمون کے کارکنان مسلح افواج کے غیر جمہوری اقدام کے خلاف اپنا احتجاج ختم نہیں کرتے تو ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔

قبل ازیں وزارت نے ایک بیان میں ایسا اشارہ دیا تھا کہ مرسی نوازوں کے دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ عالمی برادری کی جانب سے مصرکی عبوری حکومت پر یہ زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کے پرامن احتجاج کو کچلنے کے لیے طاقت کے بے مہابا استعمال سے گریز کرے کیونکہ گذشتہ ہفتے پولیس کی فائرنگ سے مرسی کے بہتر حامیوں کی ہلاکت پر عبوری حکومت کو پہلے ہی اندرون اور بیرون ملک کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

درایں اثناء جرمن وزیرخارجہ گائیڈو ویسٹرویلے اور یورپی یونین کے مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی برنارڈینو لیون قاہرہ پہنچے ہیں۔ ان کی آمد کا مقصد مصر کی عبوری حکومت اور سابق صدر کے حامیوں کے درمیان جاری کشیدگی کو ختم کرانا ہے۔