امریکا اور دوسرے ممالک مصری بحران کے پُرامن حل کے لیے کوشاں

پارٹیوں کو یک جا کرنے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں: جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ''امریکا اور دوسرے ممالک مصر کی متحارب جماعتوں کو یک جا کرنے اور بحران کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہیں''۔

جان کیری نے لندن میں متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید سے ملاقات سے قبل کہا کہ ''مصر کو معمول پر لانے کی ضرورت ہے،اس میں استحکام بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہاں کاروبار ہو اور لوگ اپنے کام پر لوٹ جائیں''۔

مسٹر جان کیری نے کہا کہ ''ہم دوسروں کے ساتھ مل کر مصری جماعتوں کو اکٹھا کرنے کے لیے سخت جدوجہد کریں گے تاکہ بحران کا کوئی پرامن حل تلاش کیا جاسکے کہ جس سے جمہوریت پروان چڑھے اور ہر شخص کے حقوق کا احترام کیا جائے''۔

انھوں نے مصر کی عبوری حکومت کو تلقین کی ہے کہ وہ پرامن مظاہروں کے حق کا احترام کرے اور ان کے بہ قول مظاہرین کی بھی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ قوم کے آگے جانے کے راستے کو روکیں نہیں۔

درایں اثناء جان کیری نے مصری بحران سے متعلق اپنے پاکستان میں ریمارکس کی وضاحت کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔جان کیری نے پاکستانی ٹی وی چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مصری فوج نے اقتدار نہیں سنبھالا اور مرسی کا تختہ نہیں الٹا بلکہ اس کے بجائے وہ مصر میں جمہوریت کو بحال کررہی ہے''۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے منسوب یہ بیان سامنے آیا تھا کہ''جب فوج نے مرسی کو برطرف کیا تو وہ جمہوریت کو بحال کررہی تھی''۔انھوں نے جیو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مصر کے لاکھوں لوگوں نے فوج کو مداخلت کے لیے کہا تھا۔ان تمام کو طوائف الملوکی اور تشدد کا خطرہ تھا''۔ان کے بہ قول فوج نے اقتدار نہیں سنبھالا ہے۔

لیکن اخوان المسلمون نے مسٹر جان کیری کے مصر کی مسلح افواج کے حق میں اس بیان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کا مؤقف مصری عوام کی منشاء کی توہین ہے۔امریکی محکمہ خارجہ متعدد مرتبہ یہ کہہ چکا ہے کہ امریکا مصر کے کسی فریق کے ساتھ نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں