مرسی کی برطرفی کی توثیق پر اخوان کی جان کیری پر تنقید

امریکی وزیرخارجہ کا بیان مسترد، امریکا سے موقف پر نظرثانی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی سابق حکمراں جماعت اخوان المسلمون نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری پر منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کی توثیق اور فوجی اقدام کی حمایت کرنے پر کڑی تنقید کی ہے۔

مرسی کی برطرف حکومت میں وزیر اور اخوان المسلمون کے ایک سنئیر لیڈر محمد علی بشر نے جان کیری کے مصری فوج کے اقدام کی حمایت میں بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ''ہم اس طرح کے بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور ہمیں ان سے بہت مایوسی ہوئی ہے''۔

انھوں نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ ''امریکا ایک ایسا ملک ہے جو جمہوریت اور انسانی حقوق اور اسی طرح کی دیگر باتیں کرتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اپنے موقف پر نظرثانی کریں گے اور اس کو درست کریں گے''۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے تین جولائی کو منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد انھیں کسی نامعلوم مقام پر نظر بند کردیا تھا۔امریکا نے اپنے مفادات کے تحت ابھی تک منتخب جمہوری صدر کے خلاف انقلاب کو فوجی بغاوت قرار نہیں دیا ہے۔

تاہم اب بادل چھٹنے کے بعد امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے مصری فوج کے منتخب صدر کی برطرفی کے اقدام کی پر زور حمایت کر دی ہے اور کہا کہ ''جب فوج نے مرسی کو برطرف کیا تو وہ جمہوریت کو بحال کر رہی تھی''۔

انھوں نے پاکستانی ٹی وی چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مصر کے لاکھوں لوگوں نے فوج کو مداخلت کے لیے کہا تھا۔ ان تمام کو طوائف الملوکی اور تشدد کا خطرہ تھا''۔ان کے بہ قول فوج نے اقتدار نہیں سنبھالا ہے۔

لیکن اخوان کے لیڈر نے مسٹر جان کیری کے مصر کی مسلح افواج کے حق میں اس بیان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کا مؤقف مصری عوام کی منشاء کی توہین ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں