مصری پولیس کی مرسی نواز مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ

وزارت داخلہ کی 48 گھنٹے میں دھرنے ختم کرانے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری پولیس نے دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کی بحالی کے حق میں مظاہرہ کرنے والے افراد کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے فائر کیے ہیں۔

ایک مصری عہدے دار نے الزام عاید کیا ہے کہ سابق صدر کے حامیوں نے میڈیا پروڈکشن سٹی پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تھی اور اس کے ردعمل میں آنسو گیس فائر کی گئی ہے''۔میڈیا پروڈکشن سٹی میں سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینلز کے دفاتر قائم ہیں۔

اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی نے اس واقعے کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جونہی ان کے کارکنان میڈیا پروڈکشن سٹی کے نزدیک پہنچے تو مصری پولیس نے ان پر گیس بم چلا دیے۔

اخوان المسلمون کے کارکنان میڈیا سٹی کے باہر بعض ٹی وی چینلز کی جانب سے تین جولائی کے فوجی اقدام کی حمایت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔مظاہرین نے مصری پرچم اٹھا رکھے تھے اور وہ مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے۔

سابق صدر کے حامیوں نے قاہرہ میں دومقامات پر گذشتہ ایک ماہ سے دھرنا دے رکھا ہے اور وہ فوجی اقدام کی واپسی اور منتخب جمہوری صدر کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

قبل ازیں مصر کے سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی تھی کہ سکیورٹی فورسز دھرنے ختم کرانے کے لیے ان کا محاصرہ کرلیں گی۔رابعہ العدویہ اسکوائر اور النہضہ اسکوائر پر دھرنا دینے والوں کا آیندہ اڑتالیس گھنٹے میں محاصرہ کر لیا جائے گا لیکن اخوان کے کارکنان اور دیگر جمہوریت پسندوں نے وزارت داخلہ کی دھمکیوں کے باوجود جمعہ کو احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں