اسرائیل سے متعلق نو منتخب صدر کا بیان مسخ کرکے پیش کیا گیا: ایرانی ٹی وی

حسن روحانی نے وقت سے پہلے اپنا حقیقی چہرہ دکھا دیا: اسرائیلی وزیراعظم کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے نومنتخب صدر حسن روحانی نے اپنی حلف برداری سے دو روز قبل کہا ہے کہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے نے مسلم دنیا کے جسم پر ایک زخم کردیا ہے۔

ایران کے سرکاری پریس ٹی وی نے ان کا یہ بیان نشر کیا ہے جبکہ اس سے پہلے ایران کی اسٹوڈنٹ نیوز ایجنسی ایسنا نے حسن روحانی کا یہ بیان نقل کیا تھا کہ ''صہیونی رجیم ایک زخم ہے اور اس کو برسوں سے مسلم دنیا کے جسم میں پیوست کیا گیا تھا،اس کو اب صاف کیا جانا چاہیے''۔

حسن روحانی اپنی حلف برداری سے دوروز قبل تہران میں جمعہ کو فلسطینیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے منعقدہ القدس ریلی سے خطاب کررہے تھے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ کسی نامعلوم خبررساں ایجنسی نے حسن روحانی کے بیان کو مسخ کیا ہے اور توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔

انھوں نے ریلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمارے خطے میں مسلم دنیا کے جسم پر برسوں سے زخم ہے اور یہ فلسطین کی مقدس سرزمین اور القدس پر قبضے سے لگا ہے''۔

ایسنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نومنتخب صدر حسن روحانی نے صہیونی ریاست اسرائیل کو ایک پھوڑا قرار دیا اور کہا کہ اس کو صاف کیا جانا چاہیے۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور حسن روحانی کے ایسنا کی جانب سے جاری کردہ اس بیان پر فوری طور پر سخت ردعمل کا اظہار کردیا۔انھوں نے کہا کہ ''روحانی نے وقت سے پہلے ہی اپنا حقیقی چہرہ ظاہر کردیا ہے''۔

انھوں نے بیان میں کہا کہ ''اگر ایرانی اس بیان کی تردید کے لیے کام کرتے ہیں تو یہ وہ بات ہے جو آدمی سوچتا ہے اور اس سے رجیم کے منصوبے کی عکاسی ہوتی ہے''۔ان کا اشارہ ایرانیوں کی اسرائیل کے بارے میں سوچ کی جانب تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے نومنتخب صدر کے اصل الفاظ کی تصدیق بھی گوارا نہیں کی اور عجلت میں فوری بیان جاری کرنا ضروری خیال کیا لیکن اب ایرانی صدر کے بیان کی وضاحت سامنے آجانے کے بعد نیتن یاہو کے بیان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں