.

لبنان: حزب اللہ سربراہ کی رواں سال کے دوران پہلی رونمائی

اسرائیل کا خاتمہ پوری مسلم دنیا کے مفاد میں ہے، ریلی سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی اسرائیل مخالف شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ تقریبا گیارہ ماہ کے وقفے کے بعد بیروت میں 'یوم القدس' کے موقع پرعوام کے سامنے نمودار ہوئے تو انہوں اسرائیل کے بارے میں تقریبا وہی موقف اختیار کیا جو ایران کے نو منتخب صدر حسن روحانی سے منسوب کیا گیا ہے۔ عوامی سطح پر اسرائیل کے دشمن نمبر ایک سمجھے جانے والے حسن نصراللہ کے الفاظ تھے''اسرائیل کا خاتمہ صرف فلسطینیوں کے مفاد میں نہیں، یہ پوری عرب اور مسلم دنیا کے بھی مفاد میں ہے۔''

بیروت کے جنوبی مضافات میں ''رویس'' کے علاقے میں اسرائیل کا پکا دشمن اور شام کے بشارالاسد کا کٹر حامی ریلی سےاپنے محافظوں کے جلو میں خطاب کے لیے آیا تو رویس کے پڑوس کے تمام علاقوں سے ملنے والے راستوں کو بلاک کر دیا گیا تھا ۔ ریلی میں شرکت کے لیے آنے والے دور دور سے پیدل آ رہے تھے۔ حسن نصراللہ نے ریلی کے شرکاء سے ایک محفوظ بنائے گئے منبر سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں حسن نصراللہ نے ایران اور شام کو ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے کہا ''ایران اور شام فلسطین اور بیت المقدس کے لیے مقدور بھر کوششیں کر رہے ہیں۔" ان دونوں ملکوں کا اس بات پر بھی شکریہ ادا کیا کہ ''دونوں نے اسرائیل کے خلاف لڑنے والے مزاحمت کاروں کو مدد فراہم کی خواہ وہ لبنان میں ہیں یا فلسطین میں۔'' حسن نصراللہ نے اس موقع پر شامی صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والی تکفیری تحریک کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جو شامی رجیم کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے سنی جہادی گروپ کی صورت سرگرم ہے۔ حسن نصراللہ نے انہیں امریکی مدد سے شام میں ہرطرح کی ہلاکتوں اور تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔

حزب اللہ جس کے جنگجو گزشتہ اٹھائیس ماہ سے اپنے ہی عوام کی بغاوت کو طاقت سے دبانے میں مصروف بشارالاسد کا ساتھ دے رہے ہیں کے سربراہ نے یوم القدس کی ریلی سے خطاب کے دوران کہا ''ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تمام خطرات سے آگاہ ہو جائیں اور شام، لیبیا، مصر، بحرین، عراق، پاکستان، افغانستان اور صومالیہ میں تمام مسائل مکالمے کے ذریعے حل کریں۔''

حسن نصراللہ نے طویل عرصے کے بعد منظرعام پر آکر ان خیالات کا اظہار ایسے وقت پر کیا جب یورپی یونین کی جانب سے حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دیے جانے کو ابھی دو ہفتے بھی نہیں ہوئے ہیں۔ واضح رہے رواں سال کے دوران حسن نصراللہ کی یہ پہلی رونمائی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں جنوبی بیروت میں حسن نصراللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی فلم بنائے جانے پر احتجاجی ریلی کی قیادت کی تھی اور ریلی میں شریک اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کیا تھا۔