.

مرسی کی برطرفی امریکی منصوبے کا شاخسانہ ہے: ایمن الظواہری

جمہوریت کی ناکامی ثابت ہو گئی، مصر کے بارے پہلا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد فوج، سیکولرعناصر اور عیسائیوں کو اقتدار میں لانے کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مصری فوج امریکی رنگ میں رنگی جا چکی ہے۔ ایمن الظواہری نے اس امر اظہار مصر میں جمہوری حکومت کے خاتمے کو ایک ماہ گزرنے کے بعد جاری کیے گئے اپنے پہلے آڈیو بیان میں کیا ہے۔ پندرہ منٹ پر محیط ایمن الظواہری کا بیان اسلام پسندوں کے انٹرنیٹ فورم پر پوسٹ کیا گیا۔

ایمن الظواہری نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''صلیبی، سیکولر اور امریکی رنگ میں رنگی جا چکی مصری فوج نے خلیجی سرمائے اور امریکی ڈیزائن کی مدد سے مرسی حکومت کو برطرف کیا ہے۔''

القاعدہ سربراہ کے بقول "مرسی حکومت نے امریکہ اور مصر کے سیکولر عناصر کو حتی المقدور خوش کرنے کی کوشش کی مگر اس کے باوجود مرسی حکومت ان کا اطیمینان حاصل نہ کرسکی۔'' امریکہ اور لادین عناصر نے اس لیے مرسی حکومت پر اعتماد نہ کیا کہ یہ الاخوان المسلمون کے پرانے ''نعروں جہاد ہماری جنگ اور شہادت ہماری آرزو ہے'' سے آگاہ تھے۔ اگرچہ اخوان المسلمون نے اب اپنے ان نعروں کی جگہ ''اسلام ہی مسائل کا حل ہے'' کا نعرہ اختیار کر لیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود صلیبیوں اور سیکولر عناصر نے اخوان کے پرانے نعروں کو بھلایا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا جو کچھ مصر میں ہوا ہے یہ جمہوری طریقوں کی ناکامی کا ثبوت ہے کہ اس راستے سے اسلامی حکومت قائم نہیں ہو سکتی۔

القاعدہ سربراہ نے اپنے آڈیو بیان میں مسلمانوں کو دعوت دی ہے کہ ''اسلامی قانون کی حکمرانی کے لیے متحد ہو جائیں۔'' القاعدہ رہنما جن کے ٹھکانے کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا ممکن نہیں ہے نے مرسی حکومت کے خاتمے میں مصر کے قبطی عیسائیوں پرملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ''قبطی عیسائی مصر کے جنوب میں قبطی ریاست بنانےکے لیے کوشاں ہیں۔''

ایمن الظواہری نے اپنے اس پہلے بیان میں عبوری حکومت کے نائب صدر محمد البرادعی کوامریکی سفیر قرار دیتے ہوئے کہا عراق کی تباہی میں اس کا کردار ہے۔