شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ مضبوط اتحاد قائم رہے گا: حسن روحانی

دنیا کی کوئی طاقت دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے نئے صدر حسن روحانی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے ساتھ اتحاد قائم رہے گا اور کوئی تبدیلی اس پر اثرانداز نہیں ہوگی۔

ایرانی صدر شامی وزیراعظم وائل الحلقی سے گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''دنیا کی کوئی بھی طاقت دونوں ممالک کے درمیان ٹھوس ،تزویراتی اور تاریخی تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتی ہے''۔

شامی عرب نیوز ایجنسی (سانا) نے حسن روحانی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ''شامی ،ایرانی تعلقات مفاہمت اور مشترکہ منزل پر مبنی ہیں''۔انھوں نے شام میں استحکام ،چیلنجز سے نمٹنے ،اصلاحات کے لیے کوششوں کی حمایت اور بحران کے پُرامن حل کے لیے شامی عوام اور حکومت کے لیے ایران کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

واضح رہے کہ ایران اور شام کے درمیان 1980ء کے عشرے سے قریبی تعلقات چلے آرہے ہیں۔تب عراق کے سابق صدر صدام حسین کی فوجوں کی ایران پر چڑھائی کے وقت شام نے ایران کی حمایت کی تھی۔

اب ایران شامی صدر بشارالاسد کی ان کے خلاف مسلح عوامی مزاحمتی تحریک میں بھرپور حمایت کررہا ہے۔ شامی وزیراعظم نے حسن روحانی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی اور اس موقع پر انھوں نے شامی صدر کا ایک خط ان کے حوالے کیا۔اس میں انھوں نے دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعلقات کے فروغ پر زور دیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ''دونوں حکومتیں مغرب ،امریکا اور خطے میں ان کے آلہ کاروں کی سازشوں کے مقابلے کا عزم رکھتی ہیں۔یہ طاقتیں مزاحمت کی قوتوں کو کم زور کرنا چاہتی ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں