عراق: بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں جج اور فوجیوں سمیت چھے ہلاک

سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر میں جج کی قیام گاہ پر کار بم حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں ایک جج اور تین فوجیوں سمیت چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شمالی صوبے نینویٰ کے دارالحکومت موصل سے ساٹھ کلومیٹر جنوب میں واقع ایک شاہراہ پر اتوار کو فوج کی ایک گشتی پارٹی کے نزدیک بم دھماکا ہوا ہے جس سے تین فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔ بم سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔

سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت میں ایک جج کی قیام گاہ کے نزدیک بارود سے بھری کار دھماکے سے اڑا دی گئی جس کے نتیجے میں جج صاحب مارے گئے ہیں اور ان کی اہلیہ شدید ز خمی ہوگئی۔

دارالحکومت بغداد میں بم دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔شمالی شہر کرکوک میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک اور اس کا بیٹے زخمی ہوگیا۔گذشتہ روز عراق کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات میں نو فوجیوں سمیت چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے تکریت اور دوسرے شہروں میں ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ماضی میں عراق میں القاعدہ کی مقامی تنظیم ریاست اسلامی پر سرکاری حکام، سکیورٹی فورسز اور اہل تشیع پر بم حملوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عراق میں اس سال اب تک تشدد کے واقعات میں چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں آٹھ سو صرف جولائی میں مارے گئے ہیں۔پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے بھی عراق میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ عراق کے اہل سنت شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی حمایت کررہے ہیں جبکہ اکثریتی اہل تشیع شامی صدر بشارالاسد کے حامی ہیں جبکہ عراقی حکومت نے کہنے کی حد تک غیر جانبدارانہ موقف اختیار کررکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں