مصر: مرسی کی اتحادی جماعتوں نے ''مائنس ٹو فارمولہ'' پیش کر دیا

مرسی اور سیسی دونوں کے مخا لف مظاہرین کی رائے کا احترام کیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی اتحادی جماعتوں نے ملک کو فوج کے کنٹرول میں دینے کے بجائے سیاسی جماعتوں کی سطح پر بحران سے نمٹنے کے لیے سابقہ اپوزیشن جماعتوں اور موجودہ عبوری حکمران جماعتوں کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔ مرسی کی اتحادی جماعتوں نے امریکی اور یورپی نمائندوں کو بھی اپنی اس آمادگی سے آگاہ کیا ہے کہ وہ مرسی کو بحال کرنے پر اصرار سے اس صورت گریز کر سکتی ہیں کہ فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے لیے بھی حکومت اور حکومتی معاملات میں کوئی کردار نہ ہو، تاکہ مصر میں ایک مرتبہ پھر فوجی آمریت قائم ہونے کا سد باب ہو سکے۔

تین جولائی سے جاری دھرنوں میں شامل مظاہرین کے بڑی تعداد میں مارے جانے کی وجہ سے مصر خونریزی سے دوچار ہے، اسے کسی بڑے سانحے سے بچانے کے لیے معزول صدر کی بعض اتحادی جماعتوں نے عملا ''مائنس ٹو '' فارمولے کو آگے بڑھانے کی شرط پر سیاسی جماعتوں کی سطح پر مکالمہ شروع کرنے پر رضا مندی کا اشارہ دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی سطح پر اس پیش رفت کو آئندہ دنوں میں اہمیت مل سکتی ہے تاہم فوجی سربراہ کو سیاست سے دور رکھنے کے سوال پر ابھی کسی بھی جانب کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حالیہ چند دنوں کے دوران مصر میں ناراض سیاسی جماعتوں کی طرف سے کچھ لچک سامنے آنے کا امکان اس وقت نظر آیا ہے جب سابقہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے قائدین نے امریکی نائب وزیر خارجہ ولیم برنز، مصر میں امریکی سفیر این پیٹرسن اور یورپی یونین کےخصوصی نمائندے برنارڈ ینو لیون سے اپنی ملاقاتوں کے دوران 3 جولائی سے پہلے صدر مرسی کے خلاف سڑکوں پر آنے والے مظاہرین کے جمہوری وزن کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے مطالبے پر صدر مرسی کی برطرفی کو ماننے اور آئندہ بھی ڈاکٹر مرسی کی بحالی پر اصرار نہ کرنے سے اتفاق کا اشارہ دیا ہے تاہم یہ بھی مطالبہ کیا کہ جس طرح مرسی مخالف مظاہرین کی سیاسی حیثیت قابل احترام ہے اسی طرح فوج کے سربراہ کے خلاف 3 جولائی کے بعد سے موجود مظاہرین کی آواز کو بھی اہمیت دیتے ہوئے فوج کے سربراہ سیسی کے لیے کسی حکومتی کردار کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

اس امر کھلا اظہار مزکورہ بالا تینوں غیر ملکی شخصیات سے ملاقات کرنے والے مرسی اتحادی جماعتوں کے وفد کے ترجمان طارق المالٹ نے کیا ہے۔ طارق الماس کے مطابق غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ مرسی کی اتحادی جماعتیں مسلے کے سیاسی حل کے لیے تیار ہیں۔ خبر رساں ادروں سےبات چیت کے دوران مرسی بحالی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا آئین در پیش صورت حال کا ایک کے بجائے کئی حل پیش کرتا ہے۔ طارق کا یہ بھی کہنا تھا اگر مرسی سیاسی کا سیٹ اپ میں نہ ہونا بہتر ہے تو میجر جنرل سیسی کو بھی طویل دھرنا دینے والے مظاہرین کے مطالبے کے مطابق کسی سیاسی بندوبست میں نہیں ہونا چاہیے۔

طارق المالٹ نے مزید کہا ''ہم مرسی مخالف مظاہرین کی رائے کا احترام کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی مرسی کے حامی مظاہرین کا بھی احترام کیا جانا چاہیے'' سیاسی جماعتوں کی سطح پر مکالمے کے حوالے سے طارق المالٹ نے کہا '' ہم مل کر بیٹھ سکتے ہیں اور سامنے آنےوالی تجاویز پر غور کر سکتے ہیں، تاہم ضروری ہو گا کہ عوامی خواہشات احترام کیا جائے اور فوج کو مسلےکے سیاسی حل میں کوئی کردار نہ دیا جائے''

وفد کے ترجمان کے خیال میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لیے وقت درکار ہو گا اس مقصد کے لیے تمام سیسی اسیران کو رہا کیا جانا چاہیے۔ نیز اتحادی مسلے کے سیاسی حل کے لیے لچک دکھانے کو تیار ہیں تاکہ 2012 کے دستور کی طرف واپسی ہو سکے اور دستور بحال ہو سکے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں